زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 50
زریں ہدایات (برائے طلباء) 50 جلد چهارم پڑھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔اب پانچ پیشے رہ جاتے ہیں۔کیمیا، چمڑے کا کام، لکڑی کا کام، لوہاری اور معماری معماری کے کام میں فی الحال میں نے دخل دینا ضروری نہیں سمجھا۔کیونکہ معماری کے کام کے لئے خاص انتظام کی ضرورت پیش نہیں آتی۔لوگ اپنے اپنے طور پر اسے سیکھ سکتے ہیں۔لیکن اگر موقع ملا تو ہم اسے بھی نظر انداز نہیں کریں گے۔باقی رہ گئے چار کام۔لوہاری ، نجاری، چمڑے کا کام اور علم کیمیا۔یہ سکول جس کے افتتاح کے لئے آج ہم جمع ہوئے ہیں اس میں تین کام شروع کئے جائیں گے۔ابھی صرف دو جماعتیں کھولنے کا انتظام کیا گیا ہے۔لوہاری اور نجاری۔چمڑے کے کام کی سکیم ابھی زیر غور ہے۔کیمیا کے کام مثلاً ادویہ سازی کے متعلق بھی میں مشورہ کر رہا ہوں۔اور میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ اس کام کو بھی شروع کر دیا جائے۔اس کام کی ایک قسم تو شروع کی ہوئی ہے اور وہ گلاس فیکٹری ہے۔لیکن وہ ایک خاص شکل میں محدود ہے۔کیمیا سازی میں پینٹنگ، پالش وغیرہ سب چیزیں آجاتی ہیں۔میں اس کے متعلق ماہر فن لوگوں سے مشورہ کر رہا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اس میں بھی ہاتھ ڈالا جائے گا۔باقی تین کام جو ہم شروع کرنے والے ہیں اور ان کے ساتھ کپڑا بنے کا کام بھی لگا دیا جائے تو چار ہو جاتے ہیں نہایت ضروری ہیں مگر بد قسمتی سے یہ کام ہندوستان میں ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔جب کسی ملک کے زوال کے دن آتے ہیں تو لوگوں کی بھی بدل جاتی ہیں۔اگر کسی سے کہہ دیا جائے کہ یہ موچی ہے تو لوگ سمجھیں گے کہ وہ ذلیل کام کرنے والا ہے اور وہ خود بھی اس پیشے کو ذلیل سمجھے گا اور اسے چھوڑ دینے کی خواہش کرے گا۔لوہار اور ترکھان کے پیشے کو بھی ذلیل سمجھا جاتا ہے۔گو وہ موچی کے پیشے کی طرح بد نام نہیں اور گولوگ انہیں اتنا حقیر نہ سمجھتے ہوں مگر وہ کبھی پسند نہ کریں گے کہ ہمارے بچے لوہار یا ترکھان ذهنیتیں بنیں یاوہ جلا ہے کا کام سیکھیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پیشوں کی آمدنیاں محدود ہو گئی ہیں۔جس کسی پیشہ میں نفع کم ہو جائے تو قدرتی طور پر اس کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے۔مثلا تمہیں ہندوستان