زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 49
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 49 جلد چهارم ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیوں کوئی چیز سات یا آٹھ ہاتھوں میں سے گزر کر آئے۔جتنے واسطے اڑائے جاسکیں اتنی ہی کم قیمت دینی پڑے گی۔پس اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ چیز براہ راست ہمیں پہنچے گی اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس پر کم خرچ آئے گا۔اور واسطوں کے اڑ جانے سے ہم تھوڑے سرمایہ سے بڑے بڑے سرمایہ داروں کا مقابلہ کر سکیں گے۔مگر یہ تجارت قادیان میں نہیں ہوگی کیونکہ یہاں کوئی منڈی نہیں ہے۔یہ کلکتہ، دہلی یا دوسرے بڑے شہروں میں قائم ہو سکتی ہے۔باقی پیشوں میں سے جو انسان کی ضروریات مہیا کرتے ہیں کپڑا بننے کا کام بہت بڑے سرمایہ کو چاہتا ہے اور یہ شروع سے ہی لاکھوں روپیہ والے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔اس لئے فوراً اس میں ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔اس کے لئے ہمارے پاس ایک NUCLEUS یعنی بیج ہے اور وہ ہوزری ہے۔فی الحال جرابیں وغیرہ بنانے کا کام جاری ہے۔اس کے ساتھ ہم آہستہ آہستہ دوسرے کپڑے بنانے کا کام بھی شروع کر دیں گے۔کپڑے کے لئے کھڈیاں وغیرہ بھی استعمال کی جاتی ہیں لیکن ابھی تک کھڑیاں اتنی مفید ثابت نہیں ہوئیں۔ایک دو دفعہ لدھیانہ سے مشینیں منگا کر دیکھی ہیں لیکن ان کے ذریعہ جو کام کیا گیاوہ زیادہ مفید ثابت نہیں ہوا۔اگر آئندہ مفید ثابت ہو تو وہ کام بھی انشاء اللہ شروع کر دیا جائے گا۔اب رہ گیا طب کا علم۔طب کے متعلق باقاعدہ طور پر کام شروع نہیں کیا گیا۔لیکن مبلغ جو باہر جاتے ہیں انہیں طب پڑھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو ایک الگ طیبی سکول جاری کر دیا جائے گا یا مدرسہ احمدیہ کی ایک شاخ کھول دی جائے گی۔اور یہ کام خصوصاً اس لئے شروع کیا جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس سے تعلق تھا اور حضرت خلیفہ اول تو ایک بلند پایہ طبیب بھی تھے۔غرض طب سلسلہ احمدیہ سے خاص تعلق رکھتی ہے۔بچپن میں عموماً میری صحت خراب رہتی تھی ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم قرآن شریف اور بخاری کا ترجمہ اور طب پڑھ لو۔چنانچہ میں نے طب کی تین چار کتابیں پڑھیں بھی۔تو طب کے متعلق میرا خیال ہے کہ اسے جاری کیا جائے۔فی الحال مبلغین کو طب