زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 48
زریں ہدایات (برائے طلباء) 48 جلد چهارم لے کر ان کی تجارت کر سکتے ہیں۔جو تجارتیں پہلے قائم شدہ ہیں ان میں ہمارا داخل ہونا اور کروڑوں روپیہ کے سرمایہ کی تجارتوں کے مقابل ہمارا کھڑا ہونا ناممکن ہے اس لئے میں نے یہ تجویز کی کہ نئی تجارتی اشیاء دریافت کی جائیں۔اس ضمن میں میں نے دیکھا کہ تجارتوں میں جو واسطے پائے جاتے ہیں ان کو اڑانے کی ضرورت ہے۔ممکن ہے بعض دوست واسطوں کا مطلب نہ سمجھیں اس لئے میں اس کی تشریح کر دیتا ہوں۔واسطے کا مطلب یہ ہے کہ اصل خریدار تک پہنچنے کے لئے ایک چیز کئی ایک ہاتھوں میں سے گزر کر آتی ہے۔مثلاً ایک چیز انگلستان میں پیدا ہوتی ہے اور فرض کرو کہ وہ چین میں جا کر بکتی ہے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اسے پہلے ایک ملک نے خریدا۔اس سے پھر دوسرے نے اور پھر تیسرے اور چوتھے نے۔یہاں تک کہ وہ چیز کئی ملکوں میں سے ہوتی ہوئی چین تک جا پہنچی۔جنگ کے دنوں میں اس راز کا انکشاف ہوا تھا کہ وہ دوائیاں جو یہاں آکر یکتی تھیں وہ در اصل جرمنی میں بنائی جاتی تھیں اور ان پر صرف انگریزی ٹھپہ لگتا تھا اور ہندوستان میں لوگ انہیں صرف انگریزی دوا کر کے خریدتے تھے۔ہندوستانیوں کو اس بات کا علم نہ تھا۔انگریز انہیں جرمنی سے خرید کر ہندوستانیوں سے ان کی بڑی بڑی قیمتیں لیتے تھے۔اور بہت کم لوگ اس راز سے آگاہ تھے باقی سارے لوگ ناواقف تھے۔جب جنگ شروع ہوئی تو دوائیاں نایاب ہو گئیں۔اور لوگ اس بات سے حیران تھے لیکن پھر یہ راز کھلا کہ جرمنی کی دوائیاں انگلستان میں سے ہوتی ہوئی ہندوستان آتی تھیں۔پس واسطے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک کی اشیاء اور ملکوں میں سے گزر کر اصلی حاجت مند کے پاس پہنچتی ہیں۔اس کے متعلق یہ پتہ لگایا جائے کہ کس ملک کی کون سی چیز کس کس ملک سے ہو کر آتی ہے۔یہ معلوم کرنے کے بعد جو چیز مثلاً جرمنی میں بنتی ہے اس کے لئے اگر کوئی شخص جرمنی جا کر کہے کہ تم اپنی فلاں چیز براہ راست ہمیں بھیجو۔اور اس طرح کی ایک دکان کھول لی جائے تو براہ راست تعلق قائم ہونے کی وجہ سے بیچ کا نفع جو دوسرے لوگ اٹھا رہے ہوں گے وہ نہیں اٹھائیں گے اور اس طرح وہ چیز ستی مل سکے گی اور نفع اپنے ہاتھوں میں رہے گا۔میں نے دیکھا ہے کہ کہ بعض دفعہ سات سات اور آٹھ آٹھ واسطے درمیان میں پڑ جاتے