زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 318

زریں ہدایات (برائے طلباء) 318 جلد چهارم طالب علمی کے زمانے کو آئندہ زندگی کے حق میں ایک بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔طلباء اس بنیاد کو مضبوط بنا کر دنیا میں کا رہائے نمایاں سرانجام دینے کے اہل بن سکتے ہیں 9 فروری 1959ء کولائل پور کے متعددکالجوں کے طلباءور بوہ دیکھنے اور حضرت خلیفہ المسح الثانی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔دفاتر صدر انجمن، تحریک جدید اور تعلیمی ادارے دیکھنے کے بعد 11 بجے سب طلباء حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس موقع پر آپ نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو نصائح طلباء کو فرمائیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:۔طالب علمی کا زمانہ اور اس کی اہمیت ”آپ لوگ طالب علم ہیں۔آپ جس زمانے میں سے گزر رہے ہیں یہ ایک ایسا زمانہ ہوتا ہے جس میں آئندہ زندگی کی بنیاد پڑتی ہے۔اس زمانے کی اہمیت اور قدر و قیمت کو سمجھنا اور اس کے مطابق اپنے اعمال وکردار کو بنانا نہایت ضروری ہے کیونکہ اسی پر آئندہ ترقی کا تمام دارو مدار ہے۔بلکہ اگر آپ لوگ دیکھیں اور غور کریں تو آئندہ زندگی کی بنیاد بچپن سے ہی پڑنی شروع ہو جاتی ہے۔اگر بچپن میں نیک عادتیں ڈالی جائیں تو بڑے ہونے پر وہی عادتیں راسخ ہو کر انسان کو نیکی کی طرف مائل کرنے کا موجب بن جاتی ہیں اور اس طرح اس کی زندگی سنور جاتی ہے۔برخلاف اس کے اگر بچپن سے ہی بری عادتیں پڑ جائیں تو بڑے ہو کر ان عادتوں کا ترک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو