زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 317
زریں ہدایات (برائے طلباء) 317 جلد چهارم آخر میں حضور نے فرمایا انسان کو یا تو پوری طرح دنیا دار بن جانا چاہئے اور یا پوری طرح خدا کا ہو جانا چاہئے۔جو لوگ دونوں طرف نگاہ رکھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔یا تو دنیا دار بن جاؤ اور دنیا کے سارے مکر و فریب کر کے دوسروں کی طرح تم بھی روپیہ کما لو۔اور یا پھر پوری طرح خدا کے بن جاؤ تا کہ وہ تمہاری جملہ ضروریات کا کفیل ہو جائے۔جو لوگ دونوں طرف نگاہ رکھتے میں وہ بیک وقت دو کشتیوں میں پاؤں رکھنا چاہتے ہیں۔ایسے لوگ دین اور دنیا دونوں میں ناکام رہتے ہیں۔“ الفضل 9 فروری 1957ء)