زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 303
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 303 جلد چهارم اسلامی حکومت کسی اور کے بنانے سے نہیں بنتی۔اگر ہم خود مسلمان بن جائیں گے تو حکومت بھی اسلامی بن جائے گی۔ہندوستان میں دیکھ لو وہ منہ سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے غیر دینی حکومت بنائی ہے لیکن ہے وہ ہند وحکومت۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔اگر ان کے کہنے کے مطابق وہاں واقعی لا دینی حکومت قائم ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کے کسی حصہ میں جب بھی مارے جاتے ہیں مسلمان ہی مارے جاتے ہیں۔کیا تم نے کبھی پڑھا ہے کہ بہار بنگال میں فسادات ہوئے اور اتنے ہندو اور سکھ مارے گئے۔تم جب بھی پڑھو گے کہ ہندوستان میں فلاں جگہ فسادات کے نتیجہ میں کچھ لوگ مارے گئے تو وہ لا ز ما مسلمان ہی ہوں گے۔غرض چاہے وہ اسے لا دینی حکومت ہی کہیں لیکن چونکہ وہاں ہندوؤں کی کثرت ہے اس لئے ان کی وجہ سے جو حکومت بنی ہے وہ ہند و حکومت ہی ہے۔اسی طرح اگر ہم بھی حقیقی مسلمان بن جائیں تو چونکہ یہاں ہماری اکثریت ہے اس لئے چاہے کوئی کتنا زور لگائے یہاں اسلامی حکومت ہی بنے گی۔پس اگر سب افراد صحیح معنوں میں مسلمان ہوں تو ان سے بنی ہوئی حکومت بہر حال اسلامی ہو گی۔چاہے اس کا کوئی نام رکھ لیا جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن یہ ضرور ہے کہ اسلامی کہلانے سے ہندو چڑتے ہیں حالانکہ چاہے وہ اپنی حکومت کو لا دینی کہتے ہیں لیکن ہے وہ بھی دینی۔اگر وہ لادینی حکومت ہوتی تو جبکہ میں نے بتایا ہے ہر دفعہ فسادات میں مسلمان ہی کیوں مارے جاتے ، کبھی نہ کبھی یہ خبر بھی آتی کہ فلاں جگہ اتنے ہندو مارے گئے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔لیکن وہ کہتے یہی ہیں کہ ہماری حکومت لا دینی ہے۔لیکن چونکہ وہاں ہندوؤں کی اکثریت پائی جاتی ہے اس لئے اس اکثریت کی وجہ سے ملک میں جو حکومت قائم ہوئی ہے وہ ہند و حکومت ہی ہے اس لئے جو ابتلا بھی آتا ہے وہ مسلمان پر ہی آتا ہے۔بہر حال اسلامی حکومت کے قیام کا اصل طریق یہ ہے کہ پاکستانی مسلمان دل سے مسلمان ہو جائیں۔اس کے نتیجہ میں جو حکومت قائم ہوگی اسے آپ کوئی نام دے دیں وہ یقیناً اسلامی حکومت ہوگی کیونکہ اس کے بنانے والے مسلمان ہوں گے اور مسلمان جس