زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 304

زریں ہدایات (برائے طلباء) 304 جلد چهارم حکومت کو بنائیں گے وہ کسی صورت میں بھی غیر اسلامی نہیں ہوسکتی۔اس موقع پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔کہتے ہیں کوئی معزز سکھ تھا اس نے ایک دن سفید پگڑی پہن لی۔اسے دیکھ کر بچے تالیاں پیٹنے لگ گئے۔ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے کہا سردار جی! آپ تو پکے سکھ ہیں اور آپ پر ساری قوم کو ناز ہے آپ نے یہ کیا کیا کہ سفید پگڑی پہن لی۔وہ گھبرا کر کہنے لگا سفید اور کالی پگڑی میں کیا رکھا ہے اصل میں تو دل کا لا ہونا چاہئے۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ ناموں سے کیا بنتا ہے اصل میں تو دل مسلمان ہونا چاہئے۔اگر دل مسلمان نہیں تو ظاہر میں تم بے شک اسلام اسلام کہو اس سے کچھ نہیں بنتا۔آخر مسلمانوں کے لئے حکومت کوئی نئی چیز نہیں۔انہوں نے اس سے الله پہلے بھی حکومت کی ہے۔محمد رسول اللہ ﷺے کے بعد حضرت ابوبکر نے حکومت کی لیکن کیا کسی کی مجال تھی کہ آپ کی حکومت کو غیر اسلامی کہہ سکتا ؟ پھر حضرت عمر نے حکومت کی اُس وقت بھی کسی کی کیا مجال تھی کہ آپ کی حکومت کو غیر اسلامی کہہ سکتا ؟ جب خلیفہ مسلمان ہوا اور مدینہ کے لوگ مسلمان ہو گئے تو حکومت خود بخو داسلامی ہو گئی۔پس تم اپنے آپ کو سچا اور مخلص مسلمان بناؤ۔اور یاد رکھو کہ اسلامی حکومت بنانا تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔تمہیں کون کہہ سکتا ہے کہ نمازیں نہ پڑھو یا تمہیں کون مجبور کر سکتا ہے کہ تم ضرور فلم دیکھنے جاؤ۔لیکن اگر تم نمازیں نہیں پڑھتے ، اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کرتے اور سینما جاتے ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہی گانے اور وہی مردوں اور عورتوں کا اختلاط حالانکہ تم منہ سے یہ کہتے ہو کہ ہم اسلامی حکومت چاہتے ہیں۔ہاں اگر تم مساجد میں جاؤ، نمازیں پڑھو، اسلام کی تعلیم پر عمل کرو تو پھر جو حکومت بھی بنے گی اسلامی ہوگی۔پس میں آج صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ لوگ سچے مسلمان بن جائیں تو اسلامی حکومت خود بخود قائم ہو جائے گی۔کسی کی طاقت نہیں کہ وہ آپ کی بنائی ہوئی حکومت کو غیر اسلامی کہہ سکے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایمان کی ادنی علامت یہ ہے کہ