زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 287
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 287 جلد چهارم کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ان کا بچہ بھی پاس کھڑا تھا اس نے کہا اماں! جانے بھی دو۔احمدی تو فلاں جگہ نماز پڑھتے ہیں۔اب ہمیں یہ مذاق ہاتھ آ گیا ہے کہ جب کوئی ایسی بات ہو تو ہم اس لڑکے سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات درست ہے۔اسی طرح مسلمانوں کے ایک بہت بڑے لیڈر تھے جنہیں "سر" کا خطاب بھی ملا ہوا تھا۔انہیں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گورنمنٹ نے باہر بھجوایا۔ان کے ایک کالج فیلو احمدی تھے۔انہوں نے اس احمدی دوست سے کہا کہ میں فلاں کا نفرنس میں شرکت کے لئے جا رہا ہوں۔مجھے وائسرائے نے اختیار دیا ہے کہ میں جسے چاہوں اپنے ساتھ بطور سیکرٹری لے جاؤں۔میرا خیال ہے کہ تم میرے ساتھ سفر میں سیکرٹری کے طور پر رہو۔چنانچہ انہوں نے اس احمدی دوست کو اپنا سیکرٹری بنالیا۔چونکہ وہ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے لیڈر تھے اس لئے لوگ ان کا لحاظ کرتے تھے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ایک دفعہ ایک جگہ مختلف جگہوں کے انگریز بیٹھے اپنے تجربات سنا رہے تھے تو انہوں نے ان سے کہا آپ بھی اپنا کوئی تجربہ سنائیں۔اس پر انہوں نے بھی اپنا ایک تجربہ سنایا۔ان کے سیکرٹری نے بتایا کہ بدقسمتی سے اس موقع پر میں بھی ساتھ تھا اور میں جانتا تھا کہ واقعہ اس طرح نہیں جس طرح یہ اب بیان کر رہے ہیں۔میں نے سمجھا کہ انہیں غلطی لگی ہے اس لئے جب وہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے کہا جناب ! یہ واقعہ اس طرح نہیں ہوا جس طرح آپ نے بیان کیا ہے بلکہ یہ واقعہ اس طرح ہوا ہے اُس موقع پر میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔اس پر وہ خاموش ہو گئے۔اس کے بعد ایک دن دوبارہ انہوں نے ایک مجلس میں ایک واقعہ سنایا۔اُس موقع پر بھی میں نے کہا آپ کو اس واقعہ کے بیان کرنے میں غلطی لگی ہے۔میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔واقعہ اس طرح نہیں ہے جس طرح آپ نے بیان کیا ہے۔انہوں نے کہا تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن ایسا کہنے میں وہ کچھ انقباض محسوس کر رہے تھے۔کھانا کھانے کے بعد جب وہ کمرہ سے باہر نکلے تو انہوں نے میری گردن پر ہاتھ مار کر کہا کہ کیا جھوٹ بولنا تیرا اور تیرے باپ کا ہی حق ہے میر احق نہیں ؟ تو اب دیکھوا گر چہ