زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 286

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 286 جلد چهارم کے بعد وہ ٹوکری اٹھائے گا۔پھر جب وہ ٹوکری اٹھاتا ہے تو اس کی عجیب حالت ہوتی ہے اس کے جسم میں ہیں خم پڑیں گے۔پھر جب وہ ٹوکری اٹھا کر قدم اٹھاتا ہے تو اس کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے۔اس طرح وہ ہیں پچیس منٹ میں معمار کے پاس پہنچتا ہے۔پھر معمار بھی اس قسم کی حرکات کرتا ہے کہ گویا کسی مریض کا آپریشن ہونے لگا ہے۔پس جب تک تم لوگ قربانی ، محنت اور دیانتداری کی عادت نہیں ڈالتے ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پرانی عادات کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن کوئی نئی عادت پیدا نہ ہونے دینا آسان ہوتا ہے۔مثلاً بڑی عمر میں جا کر سگریٹ وغیرہ کا استعمال ترک کرنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن اگر اس عمر میں ان باتوں کو چھوڑ دو تو زیادہ مشکل نہیں۔اسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ قوم کی عمارت کو بنانا نو جوانوں کا کام ہوتا ہے۔تم اس فقرہ کو روزانہ دہراتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بیان کرتے ہو لیکن عملی طور پر اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں مدنظر نہیں رکھتے۔مثلاً سکولوں اور کالجوں کے لڑکے سٹرائیک کرتے ہیں اور اپنے جلسوں اور تقریروں میں یہ الفاظ دہراتے ہیں کہ ہم قوم کے معمار ہیں۔قو میں ہمیشہ نو جوانوں سے بنا کرتی ہیں۔اور اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ لڑکے قوم کے معمار ہوتے ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سٹرائیک کرنے والے لڑکے ہی قوم کے معمار ہیں۔اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر تم اپنی بری عادات چھوڑ دیتے ہو تو تم فی الواقع قوم کے معمار ہو۔لیکن اگر تم ایسی حرکات کرتے ہو جن سے قوم کو نقصان پہنچتا ہے تو تم قوم کے معمار کہلانے کے مستحق نہیں۔تم اپنی قوم کی سٹڈی (Study) کرو۔اگر تم دیکھتے ہو کہ ہمارے بڑوں میں سے بعض جھوٹ بولتے تھے تو تم جھوٹ نہ بولو۔اس طرح تم اپنی قوم سے جھوٹ جیسی لعنت کو دور کر سکو گے۔میری ایک رشتہ کی ہمشیرہ احمدی نہیں ہیں۔ویسے وہ احمدیت سے محبت کا اظہار کرتی ہیں۔جب کبھی ان سے کہا جاتا ہے کہ تم احمدیت قبول کیوں نہیں کرتیں؟ تو وہ یہی کہا کرتی ہیں کہ ہم تو پہلے ہی احمدی ہیں کون کہتا ہے کہ ہم غیر احمدی ہیں۔ایک دفعہ اس قسم کی باتیں ہو رہی تھیں تو انہوں نے کہا فلاں مسجد میں ہم نے احمدیوں