زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 23

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 23 جلد چهارم تین دفعہ آیت الکرسی اور آخری تینوں قل پڑھ کر اور تینوں دفعہ اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے سر اور دھڑ پر پھیر لیا کرو۔اور اس کے بعد یہ دعا پڑھو اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِی اِلَيْكَ وَوَجْهُتُ وَجْهِي اِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَالْجَأْتُ ظَهْرِى اِلَيْكَ رَغْبَةً وَّرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بكِتَابِكَ الَّذِي أَنزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِى اَرْسَلْتَ 2 اگر تم سمجھ کر اس دعا کو پڑھو گے تو اس میں ایک نور پاؤ گے۔روشن نور جو دل کو محبت الہی سے بھر دے گا۔(4) وہ تاریکی کا ملک ہے۔تاریکی روشنی کی دشمن ہے۔تہجد پڑھنے کی تاکید مومن روشنی کا حیوان ہے اور تاریکی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔اس لئے اپنے لئے نور پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کرو۔اس نور کے پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تہجد ہے۔بلا ناغہ تہجد پڑھنے کی کوشش کرو۔مگر وہاں کے حالات کے مطابق ایسے وقت میں تہجد پڑھو کہ اس کے بعد صبح کی نماز پڑھ کر سو سکو۔ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ انسان تہجد پڑھے اور صبح کی نماز قضا کر دے۔(4) قرآن کریم میں نے تم کو حفظ کرا دیا اس کا یا درکھنا تمہارا تلاوت قرآن کریم کام ہے۔اس کی روزانہ تلاوت کو نہ بھولنا۔میں اس کی خوبیوں کے متعلق پہلے کہہ چکا ہوں۔اس کے بھیجنے والے سے زیادہ اس کی کون تعریف کر سکتا ہے۔جو کچھ اس نے بتایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ نور ہے، وہ بیان ہے، وہ فرقان ہے 3 و تفصيل لكل شَی 44 ہے، وہ قول کریم ہے، وہ کتاب مکنون ہے 5 علم و عمل کے لئے وہی سب کچھ ہے۔اور اس کے سوا جو کچھ ہے لغو ہے، فضول ہے بلکہ زہر ہے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انسان آنکھیں کھول کر اس کو پڑھے اور دل کی کھڑکیوں کوکھولے رکھے۔(5) دعا عبادت کا مغز ہے اور مومن کی جان ہے اور جو دعا میں دعا کرتے رہو غفلت کرتا ہے متکبر ہے اور اپنے آقا سے کبر کرتا ہے۔وہ اس قابل نہیں کہ کوئی شریف آدمی اسے منہ لگائے۔دعا اس کا نام نہیں کہ انسان منہ سے کہہ دے اور