زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 24

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 24 جلد چهارم سمجھ لے کہ دعا ہو گئی۔دعا پگھل جانے کا نام ہے ، موت اختیار کرنے کا نام ہے، تذلیل اور انکسار کا مجسم نمونہ بن جانے کا نام ہے۔جو یونہی منہ سے بکتا جاتا ہے اور تذلل اور انکسار کی حالت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی، جس کا دل اور دماغ اور جس کے جسم کا ہر ذرہ دعا کے وقت محبت کی بجلیوں سے تھر تھر انہیں رہا ہوتا وہ دعا سے تمسخر کرتا ہے۔وہ اپنا وقت ضائع کر کے خدا تعالیٰ کا غضب مول لیتا ہے۔پس ایسی دعا مت کرو جو تمہارے گلے سے نکل رہی ہو اور تمہارے اندر اس کے مقابل پر کوئی کیفیت پیدا نہ ہو۔وہ دعا نہیں الہی قہر کے بھڑ کانے کا ایک شیطانی آلہ ہے۔جب تم دعا کرو تو تمہارا ہر ذرہ خدا تعالیٰ کے جلال کا شاہد ہو، تمہارے دماغ کا ہر گوشہ اس کی قدرتوں کو منعکس کر رہا ہو اور دل کی ہر کیفیت اس کی عنایتوں کا لطف اٹھا رہی ہو۔تب اور صرف تب تم دعا کرتے ہو۔یہ کیفیت بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے مگر جس کے ایمان کی بنیاد عشق الہی پر ہو اس کے لئے اس سے زیادہ آسان اور کوئی شے نہیں۔بلکہ اس کی طبیعت کا تو یہ کیفیت خاصہ بن جاتی ہے اور وہ ہر وقت اس سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے۔ایسے انسان کو یہ ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ ضرور الگ جا کر مصلیٰ پر بیٹھ کر دعائیں کرے وہ خلوت و جلوت میں دعا کر رہا ہوتا ہے۔اور جب اس کی زبان پر اور اور کلام جاری ہوتے ہیں اور اس کی آنکھ کے آگے اور اور نظارے پھر رہے ہوتے ہیں اس کی روح اپنے مالک و خالق کے عقبہ رحمت 6 پر گری ہوئی اپنے لئے اور دنیا کے لئے طلب گار رحمت ہو رہی ہوتی ہے۔(6) خدا تعالیٰ سے ہمارا تعلق دلیل اور فلسفے پر مبنی نہ ہونا چاہئے۔عشق الہی پیدا کر و دلیل سے منی تو یہ ہیںکہ وہ راستہ دکھاتی ہے۔جب تک ہم نے راستہ نہیں دیکھا تب تک تو دلیل ہمارے کام آ سکتی ہے لیکن جب ہم نے راستہ دیکھ لیا پھر دلیل ہمارے کسی کام کی نہیں۔پھر صرف عشق اور صرف عشق اور صرف عشق ہمارے کام آ سکتا ہے۔اور جب عشق پیدا ہو جائے تو پھر اپنے محبوب سے جدا رہنا بالکل ناممکن ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرو کہ اس سے زیادہ محبت کے قابل کوئی وجود نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا تعلق دلیل اور ثبوت تک رہے گا تو تم کو تمہاری زندگی سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔فائدہ اُسی وقت ہوگا