زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 22

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 22 جلد چهارم اچھی بات ان میں دیکھو تو وہ تم کو مرعوب نہ کرے۔کیونکہ اگر وہ مسلمانوں میں موجود نہیں تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ وہ اسلام میں موجود نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسے بھلا دیا ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں كَلِمَةُ الحِكْمَةِ ضَالَّهُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا 1 آپ کے اس قول میں (فِدَاهُ نَفْسِی وَ رُوحِی ) اس طرف اشارہ ہے کہ اسلام کے باہر کوئی اچھی تے نہیں۔اگر کوئی ایسی شے نظر آئے تو یا تو ہمارا خیال غلط ہوگا اور وہ شے اچھی نہیں بلکہ بری ہوگی۔یا پھر اگر وہ اچھی چیز ہوگی تو وہ ضرور قرآن کریم سے ہی لی ہوئی ہوگی اور مومن ہی کی گم گشتہ متاع ہوگی۔جو کچھ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے میں اس کا ایک زندہ ثبوت ہوں۔میں گواہ ہوں اُس راستبازوں کے بادشاہ کی بات کی صداقت کا۔پس ایسا نہ ہو کہ تم یورپ سے مرعوب ہو۔خدا تعالیٰ نے جو ہمیں خزانہ دیا ہے وہ یورپ کے پاس نہیں۔اور جو ہمیں طاقت دی ہے وہ اسے حاصل نہیں۔تم ایک اسلام کے سپاہی کی طرح جاؤ اور وہ سب کچھ اکٹھا کرو جو اسلام کی خدمت کے لئے مفید ہو۔اور اس سب کچھ کو لغو مجھ کر چھوڑ دو جو اسلام کے خلاف ہے۔کیونکہ وہ ہر گز کوئی قیمت نہیں رکھتا۔تم اسے زہر سمجھ کر اس کی شدت کا مطالعہ کرو لیکن اسے کھاؤ نہیں کہ زہر کھانے والا انسان اپنے آپ کو خود ہلاک کرتا ہے اور لوگوں کی ہنسی اور تمسخر کا مستحق ہوتا ہے۔(2) تم ایک ایسے ملک کو جا رہے ہو جہاں شیطانی حیلہ سے بچنے کا طریق ایک طرف شیطان عملی طور پر سب پر غالب آنا چاہتا ہے تو دوسری طرف عملی طور پر وہ سب کو اپنے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔اگر تم نے قرآن کریم کو ذرہ بھر بھی سمجھا ہے تو ان دونوں فتنوں سے تم کو کوئی خطرہ نہیں۔بلکہ تم ہراک شیطانی حیلہ کو پانی کے بلبلہ سے بھی زیادہ نا پائیدار خیال کرو گے۔لیکن اگر تمہارے دل میں کمزوری ہو تو یا درکھو اس کا علاج ہمارے آقا نے پہلے سے بتا رکھا ہے۔روزانہ سورۃ کہف کی دس ابتدائی اور دس آخری آیتیں پڑھ چھوڑو اور ان کے مطالب پر غور کیا کرو۔وہاں کی کوئی بری بات تم پر اثر نہیں کر سکے گی۔اسی طرح چاہئے کہ روزانہ بلا ناغہ رات کو سوتے ہوئے