زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 272

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 272 جلد چهارم سے اسلامی تاریخ کے اس حصہ کو اس طرح بیان کیا کہ جس طرح مکھن سے بال نکال لیا جاتا ہے۔اسی طرح صحابہ کو میں نے ان تمام الزامات سے بری ثابت کیا جو ان پر لگائے جاتے تھے۔میرا وہ لیکچر اب بھی پروفیسروں کے زیر نظر رہتا ہے اور بعض کا لجوں میں تو یہ سفارش کی جاتی ہے کہ طلباء میرے اس لیکچر کا ضرور مطالعہ کریں۔میں نے اس لیکچر میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ بات کہ اسلام میں فتنوں کا موجب حضرت عثمان اور بڑے بڑے صحابہ تھے بالکل جھوٹ ہے۔اس لیکچر کے سلسلہ میں میں نے زیادہ تر طبری کو مدنظر رکھا ہے۔طبری نے یہ اصول رکھا ہے کہ وہ ایک ایک واقعہ کی پانچ پانچ سات سات روایات دے دیتا ہے۔میں نے دیکھا کہ ان میں سے وہ کون سے واقعات ہیں جن کی ایک زنجیر بن سکتی ہے۔ان واقعات کو میں نے لے لیا اور باقی کو چھوڑ دیا کیونکہ ایک طرح کی زندگی میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔اگر ایک سال ایک کام معاویہ کر رہے ہوں، اگلے سال وہ کام عمر و بن عاص کر رہے ہوں اور اگلے سالوں میں وہی کام پھر معاویہؓ سے منسوب ہو تو درست بات یہی ہو گی کہ وہ کام دوسرے سال بھی معاویہ ہی کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص کا نام غلطی سے آ گیا ہے۔اس اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ صحابہ سے بعض غلطیاں ہوئیں یا حضرت علی کے متعلق بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں وہ سب غلط ہیں۔گویا یہاں علم النفس میرے کام آیا۔اگر ایک شخص کے متعلق ایک سال بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں ، دوسرے سال بھی بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔تیسرے سال بھی بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں تو ہمیں وہی واقعات درست ماننے پڑیں گے جو ایک کڑی اور زنجیر بنا دیں۔رحم دل اور سنگدل یا پارسا یا عیاش آدمی جمع نہیں ہو سکتے۔مثلاً ایک آدمی کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ رحم دل ہے اور اکثر واقعات اس کی رحم دلی پر دلالت کرتے ہیں اگر اس کے متعلق بعض ایسی روایات آجائیں کہ وہ ظالم تھا تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ اسے ظالم بتانے والی روایات غلط ہیں کیونکہ رحم دلی اور ظلم جمع نہیں ہو سکتے۔پس سائیکالوجی سے شواہد کو چیک کر لیا جائے تو تاریخ بھی علم بن جاتا ہے۔