زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 273
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 273 جلد چهارم سائیکالوجی کی مدد سے ہم دو سال بعد بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کونسا واقعہ درست ہے اور کونسا غلط۔میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں اور یہ مثال الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الأعداء کی مصداق ہے۔بائبل میں لکھا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کی تجلی دیکھنے طور پر گئے تو ان کے پیچھے ہارون علیہ السلام مشرکوں سے مل گئے اور بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ ہارون علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو آپ نے انہیں روکا۔اب دیکھو قرآن کریم 1900 سال بعد آیا ہے اور بائیل خود اس کے ماننے والوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں لکھی گئی تھی۔اب ایک روایت بائبل میں موجود ہے اور ایک روایت قرآن کریم نے بیان کی ہے جو 1900 سال بعد میں آیا۔ہاں اس کا یہ دعوی تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اب اگر دیکھا جائے کہ ان روایات میں سے کونسی روایت رست ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک صاحب الہام کو یہ شبہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہے بھی یا نہیں۔مثلاً میں ایک شخص کے متعلق یہ جانتا ہوں کہ وہ یہاں بیٹھا ہے اب اس کے متعلق میں یہ بھلا کیوں کہوں گا کہ وہ چنیوٹ میں ہے۔حضرت ہارون علیہ السلام تو مُلهَم مِنَ الله تھے اگر ان کے متعلق ہمارا یہ دعویٰ درست ہے تو آپ بچھڑے کی پوجا کس طرح کر سکتے تھے۔پس علم النفس ہمیں بتاتا ہے کہ ان پر بچھڑے کی پوجا کا الزام لگانا درست نہیں۔پھر مذہبی کتابوں اور تاریخ سے آپ کی جس قسم کی ذہانت کا پتہ لگتا ہے اس ذہانت والا شخص بھی یہ غلطی نہیں کر سکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بچھڑے کی پوجا شروع کر دے۔اس لئے عقلاً بھی قرآن کریم کی روایت ٹھیک ہے اور بائیل کی روایت غلط ہے۔یہ چیز ایسی ہے کہ اسے جس سمجھ دار انسان کے سامنے بھی ہم پیش کریں اسے قرآن کریم کی فضیلت ماننی پڑتی ہے۔یہ تو ہمارا بیان ہے لیکن انسائیکلو پیڈیا میں بھی لکھا ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے ہارون علیہ السلام نے شرک نہیں کیا بلکہ آپ نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا سے روکا اور اس روایت کو عقل سلیم بھی تسلیم کرتی ہے۔اس کے مقابلہ میں بائبل کی روایت غلط