زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 236

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 236 جلد چهارم والی مکران نے راجہ داہر سے دریافت کیا تو اُس نے اس واقعہ کا انکار کر دیا۔مسلمان چونکه خودر است باز تھے اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی سچ بولتے ہیں۔جب راجہ داہر نے انکار کر دیا تو انہوں نے بھی مان لیا کہ یہ بات سچ ہوگی۔کچھ عرصہ کے بعد ایک اور قافلہ انہوں نے اسی طرح لوٹا اور ان میں سے بھی کچھ عورتیں انہوں نے قید کیں۔ان عورتوں میں سے ایک عورت نے کسی طرح ایک مسلمان کو جو قید نہیں ہوا تھا یا قید ہونے کے بعد کسی طرح رہا ہو گیا تھا کہا کہ میرا پیغام مسلمان قوم کو پہنچا دو کہ ہم یہاں قید ہیں اور مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہم کو بچائے۔اُس وقت خلیفہ بنوامیہ افریقہ پر چڑھائی کی تجویزیں کر رہا تھا اور سپین فتح کرنے کی سکیم بن رہی تھی اور تمام علاقوں میں یہ احکام جاری ہو چکے تھے کہ جتنی فوج میسر آسکے وہ افریقہ کے لئے بھجوا دی جائے۔اُس وقت وہ پیغا مبر پہنچا اور اُس نے عراق کے گورنر کو جو حجاج نامی تھا اور جو سخت بد نام تھا یہ پیغام پہنچایا۔اُس میں بدنامی کی بھی باتیں ہوں گی مگر اس جیسا نڈر، بہادر اور اسلام کے لئے قربانی کرنے والا آدمی بھی اُس زمانہ میں ہمیں شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔آنے والے نے حجاج سے کہا کہ میں سندھ سے آیا ہوں۔وہاں یکے بعد دیگرے دو مسلمان قافلے لوٹے گئے ہیں اور کئی مسلمان قید ہیں۔راجہ داہر نے گورنر مکران سے یہ بالکل جھوٹ کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔حجاج نے کہا کہ میں کس طرح مان لوں کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو درست کہہ رہے ہو؟ ہر بات کی دلیل ہونی چاہئے بغیر کسی دلیل کے میں تمہاری بات نہیں مان سکتا۔اُس نے کہا کہ آپ مانیں یا نہ مانیں واقعہ یہی ہے کہ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔حجاج نے کہا کہ اول تو تمہاری بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہم نے گورنر مگر ان کو لکھا اور اُس نے جو جواب دیا وہ تمہارے اس بیان کے خلاف ہے۔دوسرے تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے خلیفہ وقت کا حکم ہے کہ جتنی فوج میسر ہوا فریقہ بھیج دو۔پس اس وقت ہم اپنی فوجوں کو کسی اور طرف نہیں بھیج سکتے۔غرض اس نے ہر طرح سمجھایا مگر حجاج پر کوئی اثر نہیں ہوا اور اُس نے کہا کہ میرے حالات اس قسم کے نہیں کہ میں اس