زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 218

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 218 جلد چهارم سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔جب رسول کریم ہے جنگ احد میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں ایک ایسا درہ ہے کہ اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے تو دشمن اس میں سے مسلمانوں پر حملہ کر سکتا ہے۔وہ درہ اتنا چھوٹا تھا کہ وہاں دس آدمی بھی دشمن کو روک سکتے تھے۔آپ نے ایک صحابی کو بلایا اور اسے فرمایا ہم تمہیں دس آدمی دیتے ہیں تم اس درہ کی حفاظت کرو۔یہ درہ اتنا ضروری ہے کہ چاہے ہمیں شکست ہو جائے اور چیلیں ہماری نعشوں کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا جائیں اور چاہے فتح ہو جائے اور دشمن بھاگ جائے تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا۔مسلمانوں کو اس جنگ میں فتح نصیب ہوئی اور مسلمانوں کا لشکر دشمن کی فوج کو رگیدتا ہوا آگے بڑھا۔اس لشکر میں خالد بن ولید بھی تھے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔عمرو بن عاص بھی تھے جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور ان کے ساتھ عکرمہ بھی تھے جو ابھی کفر کی حالت میں تھے۔خالد بن ولید نہایت ہوشیار جرنیل تھے۔جب دشمن فوج شکست کھا کر مکہ کی طرف واپس لوٹ رہی تھی تو خالد بن ولید کی نظر اس درہ پر پڑی۔اس نے دیکھا کہ درہ خالی ہے۔جب مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور کفار شکست کھا کر بھاگ گئے تو اسلامی لشکر کے سپاہی غنیمت کا مال اکٹھا کرنے لگ گئے۔درہ کے محافظوں نے اپنے انچارج سے کہا سارے مسلمانوں نے آج جہاد کیا ہے اور اس طرح ثواب حاصل کیا ہے لیکن ہم اس ثواب سے محروم رہ گئے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ بھاگتے ہوئے دشمن پر ہم بھی دو چار تلوار میں مارلیں اور اس طرح جہاد کے ثواب میں شریک ہو جائیں۔افسر نے کہا رسول کریم ہے نے فرمایا تھا مسلمان لشکر کو خواہ شکست ہو یا فتح ہم نے اس جگہ سے نہیں ہلنا اس لئے میں اس جگہ کو خالی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس کے ساتھیوں نے کہا آپ ﷺ کے اس فرمان کا سچ سچ یہ مطلب تو نہیں تھا کہ فتح کے بعد بھی ہم یہاں رہیں بلکہ آپ نے یہ الفاظ اس درہ کی اہمیت پر زور دینے کے لئے کہے تھے اور آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ ہم اس درہ کو خالی کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔لیکن اب تو جلد بازی کا سوال ہی