زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 219
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 219 جلد چہارم نہیں رہا۔دشمن شکست کھا چکا ہے اور ہمار الشکر اس کو رگید تا چلا جا رہا ہے۔اب یہاں بیٹھے رہنا اپنے آپ کو ثواب سے محروم رکھنا ہے۔افسر نے کہا تم خواہ مجھے چھوڑ دو میں اُس وقت تک اس درہ کو نہیں چھوڑوں گا جب تک رسول کریم ﷺ مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں لیکن میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اگر تم ایسا کرو گے تو غلطی کرو گے۔انہوں نے کہا تم بہت زیادہ لفظوں کے پیچھے جا رہے ہو۔ہم یہاں بیٹھ کر ثواب سے محروم نہیں رہیں گے چنا نچہ وہ چلے گئے اور افسر اکیلا رہ گیا۔خالد بن ولید نے درہ کو خالی پایا تو عمرو بن العاص کو آواز دی اور کہا تم جتنے آدمی اکٹھے کر سکتے ہو کرو میں بھی آدمی اکٹھے کرتا ہوں۔درہ خالی ہے ہم نے اس میں سے مسلمانوں پر حملہ کرنا ہے۔عمرو بن عاص کی سمجھ میں یہ بات آگئی۔مسلمان فتح کے بعد لوٹ رہے تھے کہ دو تین سو آدمیوں نے منظم طور پر مسلمانوں پر عقب سے حملہ کر دیا۔درہ خالی تھا صرف ایک آدمی تھا جو مارا گیا۔اس کے بعد اس دستہ نے اسلامی لشکر پر حملہ کر دیا۔اچانک حملہ کی تاب نہ لا کر سارا اسلامی لشکر بھاگ گیا یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے۔اور ایک وقت ایسا آیا کہ آپ کے پاس صرف دو آدمی رہ گئے۔رسول کریم کے زخمی ہو کر نیچے گرے دوسرے صحابہ کی نعشیں آپ کے اوپر آ گئیں اور آپ نیچے دب گئے اور مشہور ہو گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔یہ نتیجہ تھا رسول کریم ﷺ کے ایک حکم کو نہ ماننے کا۔بے شک افسر نے یہی کہا تھا کہ مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ لڑائی میں فتح مسلمانوں کی ہوتی ہے یا دشمن کو ، رسول کریم ﷺ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ ہم کسی صورت میں بھی یہاں سے نہ ہلیں سو میں یہاں کھڑا رہوں گا لیکن اس کے باقی ساتھیوں نے اسے چھوڑ دیا اور قوم کو ایک خطرناک نتیجہ دیکھنا الله پس قوم کی حقیقی فتح اسی میں ہوتی ہے کہ اس کے افراد اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں اور دیکھیں کہ قوم کو کس چیز کی ضرورت ہے۔بھٹہ میں سے اینٹیں نکلتی ہیں تو ان میں سے کوئی اینٹ چھت میں جالگتی ہے اور کوئی پاخانہ میں۔ہر ا ینٹ کو چھت میں نہیں لگایا جا سکتا۔اگر