زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 217

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 217 جلد چهارم دیکھ لورشین قوم نے جرمن کے مقابلہ میں کس قدر قربانی کی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ غلطی خوردہ ہو تو ہو لیکن وہاں جمہوریت ضرور ہے۔پس اصل چیز یہی ہوتی ہے کہ عوام کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو جائے۔افراد کی زندگی سے ہی قومیں زندہ رہا کرتی ہیں اور ہر قوم کی بنیاد بچے ہوتے ہیں۔جو لوگ بڑی عمر کے ہوتے ہیں ان کی غلطیاں راسخ ہو جاتی ہیں وہ دور نہیں ہو سکتیں۔لیکن آئندہ نسل کی اگر صحیح طور پر تربیت کی جائے تو ان سے وہ غلطیاں دور کی جاسکتی ہیں۔احمدیت کی بنیاد اور وہ افراد جنہوں نے اس کا کانٹا بدلنا ہے وہ کانٹا جس سے دیکھا جائے گا کہ احمدیت کی گاڑی پہاڑوں پر چلتی ہے یا گڑھے میں گرتی ہے وہ تم ہو۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت کے نوجوانوں میں قربانی کی جس روح کی ضرورت ہے نہیں پائی جاتی۔سکول کی آخری کلاس میں جو اب امتحان میں شامل ہو رہی ہے 85 طلباء ہیں۔ان میں سے صرف دو واقف زندگی ہیں۔باقی طلباء کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ جماعت کی خدمت کریں گے۔بڑی چیز یہ ہے کہ دینیات پڑھ کر دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا جائے۔اگر وہ آگے نہیں آتے تو تبلیغی لحاظ سے ان سے کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔“ 33 اس موقع پر جناب سید محمود اللہ صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے عرض کیا کہ اس کلاس کے پانچ طلباء واقف زندگی ہیں۔ہاں ان میں سے جو طالب علم دینی تعلیم کے حصول کے لئے جامعہ احمدیہ میں داخل ہوں گے وہ دو ہی ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا:۔مجھے جو اطلاع ملی ہے وہ یہی ہے کہ اس کلاس میں صرف دو طالب علم واقف زندگی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پانے والے واقفین سو فیصدی وقف پر قائم رہتے ہیں لیکن جو طالب علم کا لجوں کی تعلیم سے فارغ ہو کر وقف میں آتے ہیں ان میں سے پچاس فیصدی بھاگ جاتے ہیں اور جس فوج کا پچاس فیصدی حصہ بھاگ جائے وہ کتنی خطر ناک ہوگی اس لئے میں بجائے پانچ کہنے کے دو ہی کہوں گا۔“