زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 216

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 216 جلد چهارم کی۔ابھی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی کہ قوم کھڑی ہو گئی اور اس نے قیصر کے قاتل بروٹس کو قتل کر دیا۔گویا قتل ہو جانے کے بعد بھی سیز رہی جیتا۔اور جب قوم کو پتہ لگا کہ اس کا صیح نبض شناس کو وہی تھا تو وہ اپنے فعل پر پچھتانے لگ گئی۔پس کوئی ایک شخص حاکم ہو ہی نہیں سکتا۔ایک حاکم اُس وقت ہوتا ہے جب لوگ بے وقوف ہوں یا ایک حاکم اُس وقت ہوتا ہے کہ اگر چہ وہ ڈکٹیٹر ہوتا ہے مگر وہ قوم کی آواز ہوتا ہے۔اس کا کوئی نام رکھ لو قوم اس کے پیچھے چلے گی۔ان دو صورتوں کے علاوہ ڈکٹیٹر ہو ہی نہیں سکتا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قوم بیدار ہو اور پھر اس پر ڈکٹیٹرانہ حکومت ہو۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قوم واقعہ میں بیدار ہو اور ڈکٹیٹر واقعہ میں ڈکٹیٹر ہو۔وہ جانتی ہے کہ ان کا حاکم اچھا ہے اس لئے وہ اسے برداشت کر لیتی ہے۔پچھلے دنوں یونیسکو کا وفد یہاں آیا۔اس کے ایک امریکن ممبر سے جمہوریت پر گفتگو شروع ہوگئی۔میں نے اسے کہا جمہوریت تو اچھی ہے مگر دنیا میں مختلف جمہوریتیں ہیں۔ایک جمہوریت انگلستان کی ہے۔ایک جمہوریت امریکہ کی ہے۔ایک جمہوریت رشیا کی ہے۔اس نے کہا رشیا کی جمہوریت !! رشیا میں تو ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔میں نے کہا ڈکٹیٹر کو کس نے بنایا ہے۔پبلک سمجھتی ہے ڈکٹیٹر ان کی مرضی کے مطابق چلتا ہے اور اس کا مفاد اس کے مدنظر ہے اس لئے وہ اس کی ڈکٹیٹر شپ کو برداشت کر رہی ہے۔ورنہ اگر پبلک اسے پسند نہ کرتی تو ڈکٹیٹر نہیں رہ سکتا تھا۔اور جمہوریت کے معنی ہیں پبلک کی رائے۔خواہ ایک حاکم ہو یا دس حاکم ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ بہر حال جمہوریت ہے۔آپ کا کیا حق ہے کہ آپ اسے جمہوریت نہ کہیں۔اس نے کہا اس طرح تو جمہوریت کی تعریف نہایت وسیع ہو جائے گی اور ایک فلاسفی بن جائے گی۔میں نے کہا یہ ٹھیک ہے اس طرح جمہوریت کی تعریف وسیع ہو جائے گی اور یہ فلاسفی بن جائے گی لیکن تمام اعلیٰ مسائل آخر کار فلاسفی میں ہی تبدیل ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا آپ رشیا کی حکومت کو جو چاہیں سمجھیں لیکن اگر پبلک اسے پسند نہ کرتی تو یہ قائم نہ رہتی۔آخر پبلک چپ کیوں ہے۔تم