زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 215

زریں ہدایات (برائے طلباء) 215 جلد چهارم میں بنایا جاتا ہے؟ وہ معمولی آدمیوں میں سے ہی ایک آدمی ہوتا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ اس کے پیچھے قوم کی روح کھڑی ہے۔قوم پریذیڈنٹ کا آئینہ بن جاتی ہے اور پریذیڈنٹ قوم کا آئینہ بن جاتا ہے۔قرآن کریم نے اس گر کو بیان کیا ہے کہ خلیفہ تم چن لیکن وہ ہمارا نمائندہ ہوگا۔انگلستان اور امریکہ کو دیکھ لو یا دوسرے ملکوں کو دیکھ لو جہاں بھی بیداری پائی جاتی ہے وہاں یہی نمونہ پایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ یہ ایک نعمت ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک مسلمان زندہ رہیں گے وہ صحیح نمائندہ چنیں گے۔یہ ایک ایسی صداقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔جب تک اٹلی کی حکومت قائم رہی قیصر باوجود ڈکٹیٹر کہلانے کے نمائندہ قوم تھے۔وہ قوم کی ایک ایک حرکت اور ہر کو دیکھتے تھے اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے اور اس طرح ہزاروں دوسرے لیڈروں پر فتح پالیتے تھے۔دھوکا سے کسی کو مار لینا اور بات ہے لیکن اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ قوم کے نمائندے تھے۔شیکسپیئر نے اس کا ایک جگہ نہایت ہی عمدہ نقشہ کھینچا ہے کہ کس طرح سیزر (Caesar) کو قتل کر کے قوم کو ایک مخلص خادم سے محروم کر دیا گیا مگر وہی قوم جس کے اشارہ سے سینز کو قتل کیا گیا تھا اسے اس طرح برانگیختہ کر دیا گیا کہ وہ اس کے قاتلوں کے خلاف ہو گئی۔اس نے قوم کے سامنے کھڑے ہو کر بیان کیا کہ قیصر نے قوم کے لئے یوں قربانی کی ، یوں قربانی کی۔وہ ہمارا مال و متاع لوٹ سکتا تھا لیکن اس نے لوٹا نہیں ، اس نے ہر موقع پر قوم کو فائدہ پہنچایا اور اسے ہر خطرہ سے محفوظ رکھا۔لیکن میری آنکھیں غلط دیکھتی ہیں۔بروٹس جس نے اسے قتل کیا ہے اور وہ تمہارا نمائندہ ہے کہتا ہے کہ یہ غلط ہے۔قیصر نے قوم کے فائدہ کے لئے کچھ نہیں کیا بلکہ اس نے ہر موقع پر قوم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔پھر وہ بیان کرتا ہے قیصر کی عقل ہماری رہنمائی کرتی تھی مگر میں غلطی کرتا ہوں۔تمہارا نمائندہ بروٹس کہتا ہے کہ یہ سب غلط ہے اور اس جیسا عقلمند شخص غلطی نہیں کر سکتا۔اس طرح شیکسپیئر نے قیصر کی خوبیاں بیان کرنا شروع کیں اور ایک ایک مثال بیان