زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 199

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 199 جلد چهارم ہو سکتا ہے۔محض کسی یونیورسٹی کے فرض کر لینے سے کہ تم کو علم کا ایک تخمینی وزن حاصل ہو گیا ہے تم کو علم کا وہ فرضی درجہ نصیب نہیں ہو جاتا جس کے اظہار کی یونیورسٹی ڈگری کے ساتھ کوشش کرتی ہے۔اگر ایک یونیورسٹی سے نکلنے والے طالب علم اپنی آئندہ زندگی میں یہ ثابت کریں کہ جو مینی وزن ان کی تعلیم کا یونیورسٹی نے لگایا تھا ان کے پاس اس سے بھی زیادہ وزن کا علم موجود ہے تو دنیا میں اس یو نیورسٹی کی عزت اور قدر قائم ہو جائے گی۔لیکن اگر ڈگریاں حاصل کرنے والے طالب علم اپنی بعد کی زندگی میں یہ ثابت کر دیں کہ تعلیم کا جو تخمینی وزن ان کے دماغوں میں فرض کیا گیا تھا ان میں اس سے بہت کم درجہ کی تعلیم پائی جاتی ہے تو یقینا لوگ یہ نتیجہ نکالیں گے کہ یونیورسٹی نے علم کی پیمائش کرنے میں غلطی سے کام لیا ہے۔پس تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ یو نیورسٹیاں اتنا طالب علم کو نہیں بناتیں جتنا کہ طالب علم یونیورسٹیوں کو بناتے ہیں۔یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لو کہ ڈگری سے طالب علم کی عزت نہیں ہوتی بلکہ طالب علم کے ذریعہ ڈگری کی عزت ہوتی ہے۔پس تمہیں اپنے پیا نہ علم کو درست رکھنے بلکہ اس کے بڑھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اور اپنے کالج کے زمانہ کی تعلیم کو اپنی عمر کا پھل نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اپنے علم کی کھیتی کا بیچ تصور کرنا چاہئے۔اور تمام ذرائع سے کام لے کر اس پیج کو زیادہ سے زیادہ بار آور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تا کہ اس کوشش کے نتیجہ میں ان ڈگریوں کی عزت بڑھے جو آج تم حاصل کر رہے ہو۔اور اس یونیورسٹی کی عزت بڑھے جو تمہیں یہ ڈگریاں دے رہی ہے۔اور تمہاری قوم تم پر فخر کرنے کے قابل ہو اور تمہارا ملک تم پر اعلیٰ سے اعلیٰ امیدیں رکھنے کے قابل ہو اور ان امیدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھے۔تم ایک نئے ملک کے شہری ہو۔دنیا کی بڑی مملکتوں میں سے بظا ہر ایک چھوٹی مملکت کے شہری ہو۔تمہارا ملک مالدار ملک نہیں ہے ایک غریب ملک ہے۔دیر تک ایک غیر حکومت کی حفاظت میں امن اور سکون سے رہنے کے عادی ہو چکے ہو۔سو تمہیں اپنے اخلاق اور اپنے کردار بدلنے ہوں گے تمہیں اپنے ملک کی عزت اور ساکھ دنیا میں قائم کرنی ہوگی۔