زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 200
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 200 جلد چهارم تمہیں اپنے وطن کو دنیا سے روشناس کرانا ہو گا۔ملکوں کی عزت کو قائم رکھنا بھی ایک بڑا دشوار کام ہے لیکن ان کی عزت کو بنانا اس سے بھی زیادہ دشوار کام ہے۔اور یہی دشوار کام تمہارے ذمہ ڈالا گیا ہے۔تم ایک نئے ملک کی نئی پود ہو۔تمہاری ذمہ داریاں پرانے ملکوں کی نئی نسلوں سے بہت زیادہ ہیں۔انہیں ایک بنی بنائی چیز ملتی ہے۔انہیں آباؤ اجداد کی سنتیں یا روایتیں وراثت میں ملتی ہیں مگر تمہارا یہ حال نہیں ہے۔تم نے ملک بھی بنانا ہے اور تم نے نئی روایتیں بھی قائم کرنی ہیں۔ایسی روایتیں جن پر عزت اور کامیابی کے ساتھ آنے والی بہت سی نسلیں کام کرتی چلی جائیں اور ان روایتوں کی راہنمائی میں اپنے مستقبل کو شاندار بناتی چلی جائیں۔پس دوسرے قدیمی ملکوں کے لوگ ایک اولاد ہیں مگر تم ان کے مقابلہ پر ایک باپ کی حیثیت رکھتے ہو۔وہ اپنے کاموں میں اپنے باپ دادوں کو دیکھتے ہیں تم کو اپنے کاموں میں آئندہ نسلوں کو مد نظر رکھنا ہوگا۔جو بنیاد تم قائم کرو گے آئندہ آنے والی نسلیں ایک حد تک اس بنیاد پر عمارت قائم کرنے پر مجبور ہوں گی۔اگر تمہاری بنیاد ٹیڑھی ہوگی تو اس پر قائم کی گئی عمارت بھی ٹیڑھی ہوگی۔اسلام کا مشہور فلسفی شاعر کہتا ہے کہ خشت اول چوں شہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار سج یعنی اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھتا ہے تو اس پر کھڑی کی جانے والی عمارت اگر ثریا تک بھی جاتی ہے تو ٹیڑھی ہی جائے گی۔پس بوجہ اس کے کہ تم پاکستان کی خشت اول ہو تمہیں اس بات کا بڑی احتیاط سے خیال رکھنا چاہئے کہ تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کبھی نہ ہو کیونکہ اگر تمہارے طریق اور عمل میں کو ئی بھی ہوگی تو پاکستان کی عمارت ثریا تک ٹیڑھی چلتی چلی جائے گی۔بے شک یہ کام مشکل ہے لیکن اتنا ہی شاندار بھی ہے۔اگر تم اپنے نفسوں کو قربان کر کے پاکستان کی عمارت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دو گے تو تمہارا نام اس عزت اور اس محبت سے لیا جائے گا جس کی مثال آئندہ آنے والے لوگوں میں نہیں پائی جائے گی۔پس