زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 198

زریں ہدایات (برائے طلباء) 198 جلد چهارم لیکن مردہ خدا کی کوئی چیز بھی کسی کام نہیں آ سکتی۔اگر ہم خدا تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں ایک زندہ خدا پر یقین رکھنا ہوگا اور اگر ہم ایک زندہ خدا پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اس دنیا کے روز مرہ کے کاموں میں دخل رکھتا ہے اور ہماری ترقی یا تنزل کے ساتھ اس کی قدرتوں اور اس کے فضلوں کا بھی تعلق ہے۔اور ظاہر ہے کہ اگر ہم یہ یقین رکھیں گے تو پھر ہمیں اپنی کوششوں کے ساتھ اس سے استمداد کرنے کی بھی ضرورت ہوگی اور یہی چیز ہے جس کو کہ اسلام پیش کرتا ہے۔پس میں ان نوجوانوں کو جو تعلیم سے فارغ ہو کر اپنی زندگی کے دوسرے مشاغل کی طرف مائل ہونے والے ہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق سکون کے حاصل کرنے کی بالکل کوشش نہ کرو بلکہ ایک نہ ختم ہونے والی جد و جہد کے لئے تیار ہو جاؤ اور قرآنی منشا کے مطابق اپنا قدم ہر وقت آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ وہ آپ کو صحیح کام کرنے اور صحیح وقت پر کام کرنے اور صحیح ذرائع کو استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس کام کے صحیح اور اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرے۔یا درکھو کہ تم پر صرف تمہارے نفس کی ہی ذمہ داری نہیں تم پر تمہارے اس ادارے کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہیں تعلیم دی ہے اور اس خاندان کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہاری تعلیم پر خرچ کیا ہے۔خواہ بالواسطہ خواہ بلا واسطہ۔اور اس ملک کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہارے لئے تعلیم کا انتظام کیا ہے اور پھر تمہارے مذہب کی بھی تم پر ایک ذمہ داری ہے۔تمہارے تعلیمی ادارے کی جو تم پر ذمہ داری ہے وہ چاہتی ہے کہ تم اپنے علم کو زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھے طور پر استعمال کرو۔یونیورسٹی کی تعلیم مقصود نہیں ہے وہ منزل مقصود کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم ہے۔یونیورسٹی تم کو جو ڈگریاں دیتی ہے وہ اپنی ذات میں کوئی قیمت نہیں رکھتیں بلکہ ان ڈگریوں کو تم اپنے آئندہ عمل سے قیمت بخشتے ہو۔ڈگری صرف تعلیم کا ایک تخمینی وزن ہے۔اور ایک تخمینی وزن ٹھیک بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی