زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 196
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 196 جلد چهارم اپنے لئے اپنے مناسب حال کام یا علم تلاش کرنا چاہئے۔لیکن چونکہ بنی نوع انسان کی ترقی کا معاملہ انسانی جدو جہد اور اس کی دماغی قابلیتوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کے موجود الوقت مرکز کے ساتھ بھی وابستہ ہے اس لئے کسی کام کو شروع کرنے یا کسی علم کی تحصیل کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی یہ دعا کر لینی چاہئے کہ اس زمانہ کے متعلق جو اس کی تجویز اور اس کا فیصلہ ہے وہ اسے اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بخشے تا کہ اچھا بیج اچھی زمین میں مناسب موسم میں پڑے تا اعلیٰ سے اعلیٰ کھیتی پیدا ہو اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔جیسا کہ میں شروع میں بتا چکا ہوں انسانی زندگی کی سب دلچسپیاں ایک غیر متناہی تغیر سے وابستہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرتے ہوئے غیر متناہی تغیر کے سامان بھی اس کے ساتھ ہی پیدا کر دیئے ہیں۔لیکن جب تغیر صحیح اصول پر ہو تو وہ تغیر ترقی کا موجب ہوتا ہے اور جب غلط اصول پر ہو تو تنزل کا موجب ہوتا ہے۔لیکن سکون اپنی ذات میں ہمیشہ ہی تنزل کے سامان مخفی رکھتا ہے۔جو قوم ساکن ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ نیچے ہی گرتی چلی جاتی ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ یہ امر ہمیشہ اپنے مدنظر رکھیں کہ اس دنیا میں سکون موت کا نام ہے۔جو کھڑا ہو گا وہ مر جائے گا یا پیچھے کی طرف دھکیلا جائے گا جو دوسرا نام موت کا ہی ہے۔پس انہیں چاہئے کہ اپنی تعلیم کے ختم کرنے پر وہ ایک منٹ بھی یہ خیال نہ کریں کہ اب شاید ان کے لئے آرام کا وقت آ گیا ہے۔انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ آرام کا نہیں بلکہ کام کا وقت آ گیا ہے۔جیسا کہ میں اوپر کہہ آیا ہوں اسلامی اصول کے لحاظ سے ہر وقت انسان کے لئے آگے قدم بڑھانا ضروری ہے اور اس کی ترقی اس بات کے ساتھ وابستہ ہے کہ وہ صرف قدم ہی آگے نہ بڑھائے بلکہ اس جہت میں بڑھائے جس جہت کی طرف خدا تعالیٰ کی صفات اشارہ کر رہی ہوں۔اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جو کام کریں دعا کر کے اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگ کر کریں۔میں خصوصاً ان طلباء کو جنہوں نے کہ یونیورسٹی کی تعلیم ختم کی ہے