زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 195

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 195 جلد چهارم کرنے کے لئے تو میری مدد کرے اس کام یا اس ذمہ داری کے ادا کرنے میں تیرا انتہائی فضل مجھ پر نازل ہو اور میں اس کام میں ادنیٰ مقام حاصل نہ کروں بلکہ مجھے اس میں اعلیٰ مقام حاصل ہو۔میں تجھ سے یونہی اور بلا وجہ یہ درخواست نہیں کرتا بلکہ اس وجہ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ جن امور کے پورا کرنے کی مجھے طاقت حاصل نہیں تجھے ہے۔اور جن مخفی باتوں کا مجھے علم نہیں تجھے ہے۔پس اے خدا! اگر تیرے علم میں وہ کام جو میں کرنا چاہتا ہوں میرے لئے اچھا ہے، میری دینی ضرورتوں کے لحاظ سے اور میری دنیوی ضرورتوں کے لحاظ سے بھی اور اس لحاظ سے بھی کہ جو طاقت اور محنت میں اس کام میں خرچ کروں گا اس کا نتیجہ مجھے زیادہ سے زیادہ اچھا حاصل ہو سکے گا تو پھر تو اس کام کے کرنے کی مجھے توفیق عطا فرما۔اور اس کام کو اعلیٰ درجہ کی تکمیل تک پہنچانے کے لئے مجھے سہولت بخش۔اور اس کے نتائج کو میرے لئے وسیع سے وسیع تر بنا۔اور اگر اس کے برخلاف تیرے علم میں یہ ہو کہ وہ کام میرے لئے مناسب نہیں دین کے لحاظ سے یاد نیا کے لحاظ سے یا اس لحاظ سے کہ میری محنت کے مطابق اس سے نتیجہ پیدا نہ ہوگا تو تو اس کام کے راستہ میں روکیں ڈال دے اور میرے دل میں بھی اس سے بے رغبتی پیدا کر دے اور اس کے سوا جس امر میں میرے لئے بہتری ہے اس کے سامان میرے لئے پیدا کر دے اور اس کی طرف میری توجہ پھیر دے اور اس کی خواہش میرے دل میں پیدا کر دے۔یہ دعا کتنی کامل ہے اور اس میں کس لطیف پیرایہ سے اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ہر اچھا کام، ہر زمانہ اور ہر انسان کے لئے مفید نہیں ہوتا بلکہ اچھے سے اچھا کام بھی بعض زمانوں میں اچھا نہیں رہتا اور اچھے سے اچھا کام بھی بعض قوموں اور بعض افراد کے لئے اچھا نہیں ہوتا۔پس اپنی محنت کے اعلیٰ سے اعلیٰ پھل حاصل کرنے کے لئے انسان کو وہ کام اختیار کرنا چاہئے جو اس کے لئے اور اس کی قوم کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے اس زمانہ میں مفید ہو اور جسے اعلیٰ طور پر بجالانے کی اس میں ذاتی قابلیت موجود۔اگر یہ نہ ہو تو اسے وہ کام یا علم کسی دوسرے بھائی کے لئے چھوڑ دینا چاہئے اور خود ہو