زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 197

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 197 جلد چهارم اور ڈگریاں حاصل کی ہیں ان کے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔جب انہوں نے تعلیم شروع کی تھی تو شاید انہیں یہ بات معلوم نہ تھی کہ رسول کریم ﷺ نے ہر بڑے کام کے لئے استخارہ مقرر فرمایا ہے اور شاید اپنے لئے مضامین کا انتخاب کرتے وقت انہوں نے دعاؤں میں کوتاہی کی ہو۔لیکن اب جبکہ ان کی پہلی منزل ختم ہو گئی ہے اور دوسری منزل شروع ہونے والی ہے جو شاید اور بہت سی منزلوں کا پیش خیمہ ہوگی تو انہیں چاہئے کہ وہ اسلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق خدا تعالیٰ سے دعا کر کے اپنے لئے راہ عمل تجویز کریں۔شاید بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ یونیورسٹی کی ڈگری لینے والوں اور کالج کے طلباء کو مخاطب کرتے وقت یہ کیا راگ چھیڑ دیا گیا ہے تو میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کا مطالبہ ہی اس دعوئی پر مبنی تھا کہ اسلام ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کو ہم سیاسی وجوہ کی بناء پر ترک کرنے کے لئے تیار نہیں۔اور اسلام نام ہے خدا تعالی ، اس کی قدرتوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لانے کا۔اگر ہم اپنے دعوؤں کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں تو ہم کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی زندہ قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں ورنہ ہمیں نہ کسی الگ جتھہ کے بنانے کی ضرورت تھی اور نہ یہ مناسب تھا۔دوسرے مذاہب بطور مجہہ کے پہنے جا سکتے ہیں مگر اسلام نہیں۔اسلام ایک زندہ مذہب ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں دخل انداز ہوتا ہے اور ہمارے ہر فعل پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔اگر ہم اسلام کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ ہماری زندگی کے ہر شعبہ پر خدا اور اس کے رسول کو تصرف حاصل ہوگا۔اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دنیا کی ترقی اور تنزل میں اللہ تعالیٰ کے ارادہ کو بہت بڑا دخل حاصل ہے۔اگر ہم ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے تو ہم در حقیقت ایک مردہ خدا کا مجسمہ پوجتے ہیں اور بت پرستوں سے زیادہ ہماری حیثیت نہیں۔اور ظاہر ہے کہ مردہ خدا ایک مردہ گھوڑے کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتا کیونکہ مردہ گھوڑے کا چمڑا اور اس کی ہڈیاں تو کام آ سکتی ہیں