زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 187
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 187 جلد چهارم اردو پاکستان کی ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی زبان بھی بننے والی ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے پنجاب یونیورسٹی اردو کانفرنس کے لئے جو پیغام بھجوایا تا اور 26 مارچ 1947ء کو کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا وہ حسب ذیل ہے:۔”میرے نزدیک اردو کی صحیح خدمت یہی ہے کہ جس طرح وہ طبعی طور پر پہلے بڑھی تھی اسے طبعی طور پر اب بھی بڑھنے دیا جائے۔میرا یہ خیال ہے اور مجھے خوشی ہوگی اگر میرا یہ خیال غلط ہو کہ اردو میں عربی اور فارسی کے الفاظ زیادہ سے زیادہ داخل کرنے کی کوشش مسلمانوں کی طرف سے پہلے شروع ہوئی ہے اور ہندوؤں میں بعد میں رد عمل پیدا ہوا۔نسیم لکھنوی تک کی مسلمانی اور ہندوانی اردو ایک نظر آتی ہے۔اسی طرح سرشار کی نثر مسلمانوں کی نثر سے مختلف نہیں۔اگر ہم نے اپنے چار کروڑ مسلمانوں سے تعلق رکھنا ہے جو ہندوستان میں بستے ہیں تو ہمیں پاکستان میں اردو کی رو کو اسی طبعی رنگ پر چلنے دینا چاہئے جس رنگ پر آج سے سو پچاس سال پہلے وہ چل رہی تھی۔دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ اگر اردو کا نفرنس دہلی اور اس کے نواحی علاقوں کے اجڑے ہوئے لوگوں کے لئے یہ تحریک بھی جاری کرے کہ انہیں ایک خاص علاقے میں بسا دیا جائے تاکہ اردو زبان کے ساتھ پرانی ہندوستانی اصلی تہذیب بھی اپنا علیحدہ جلوہ دکھاتی رہے تو اس سے اردو کی بھی خدمت ہوگی اور ہماری ایک پرانی یادگار بھی تازہ رہ سکے گی۔تھل پراجیکٹ میں اس کے لئے کافی گنجائش ہے۔