زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 185

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 185 جلد چهارم استعمال کرتے ہیں اور ہمت ہار کے بیٹھے رہتے ہیں۔جو شخص اس وقت مارس موٹر کمپنی (morris motor co) کا مالک ہے وہ کسی وقت سائیکلوں کی مرمت کیا کرتا تھا لیکن اب وہ کروڑ پتی ہے۔اسی طرح اور بھی سینکڑوں لوگوں کی مثالیں ملتی ہیں جو شروع میں نہایت اونی حالت میں تھے مگر آہستہ آہستہ ترقی کر کے وہ بہت بڑی شخصیت کے مالک بن گئے۔ایک شخص جو اس وقت امریکہ کے سب سے بڑے بنک کا ڈائریکٹر ہے اور امریکہ کے پریذیڈنٹ کا دوست ہے وہ کسی وقت معمولی چپڑاسی تھا۔تو کئی لوگوں کے اندر حوصلہ ہوتا ہے اور وہ ترقی کر جاتے ہیں۔جو شخص کام کرنے والا ہوتا ہے وہ ہمیشہ اپنی اور قوم کی ترقی اور بہبود کے لئے سوچتا رہتا ہے۔مگر وہ شخص جو افیمی کی طرح پڑا رہتا ہے اس کو کیا۔اگر پچاس لڑکے ہو گئے تو بھی اور اگر سو ہو گئے تو بھی وہ اپنی اونگھ سے ہوشیار ہی نہیں ہوتا۔ایسے لوگ قومی ترقی میں روک بن جاتے ہیں اور دوسروں پر بھی برا اثر ڈالنے کا موجب ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھے لوگ ہمارے نشانوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔یہی حال ان لوگوں کا ہے۔مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ کو تو چاہئے تھا کہ وہ ہر ہفتے ایک میٹنگ کرتے اور سوچتے کہ ہمارے مدرسہ کی تعلیم کے اندر بھی کون سی کمی ہے اور لڑکوں کے اندر کون کون سے عیوب ہیں اور پھر ان کو دور کرنے کی کوشش کرتے۔پھر وہ سارے ہندوستان میں مدرسہ احمدیہ کی شاخیں کھولنے کی تجاویز پر غور کرتے اور اس کے متعلق سکیمیں سوچتے۔مگر ہمارا ماسٹر تو سوائے اس کے کہ وہ مردے کی طرح ڈھیر ہو کر پڑا رہے اور کوئی کام ہی نہیں کر سکتا اور کبھی اس کو احساس تک نہیں ہوتا کہ میرے ذمے کون کون سے فرائض ہیں۔یہی حال ہیڈ ماسٹروں اور پرنسپلوں کا ہے ان کو ایسی باتوں کی طرف کسی قسم کی توجہ نہیں۔ان کے رجسٹروں کو دیکھو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ سال میں ایک بھی اس قسم کا جلسہ نہیں ہوا جس میں وہ اس بات کے متعلق سوچتے کہ تعلیم کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے اور لڑکوں کی اصلاح کے لئے کیا کیا ذرائع اختیار کئے جا