زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 184
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 184 جلد چهارم رہے۔کڑک کر کے ایک ہی دفعہ ریوڑی کو نگل جانا اس کی ہتک کے مترادف ہے۔ذرا اندازہ تو لگا ؤ کہ ایک افیمی تو ایک ریوڑی کو اتنا سنبھالتا ہے اور اس کو اتنا فکر ہوتا ہے کہ اگر کسی غیر افیمی کے ہاتھ آگئی تو وہ اس کی بے قدری کرے گا اور ہمارے سپرد بچے ہوں اور ہم ان کو نہ سنبھالیں۔بچوں کی اتنی بھی قدر نہ کرنا جتنی کہ اس افیمی نے ریوڑی کی کی تھی یہ کتنی افسوسناک بات ہے۔اگر ہم بچوں کو سزا دیں اور وہ سزا سے ڈر کر بھاگ جائیں تو ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں مگر کوئی شخص کسی بچہ کو ورغلا کر لے جائے تو یہ ہماری غفلت کی علامت ہے۔مدرسہ احمدیہ میں ابتدا میں صرف چند لڑ کے ہوا کرتے تھے۔پھر ہم نے لوگوں میں تحریکیں کر کر کے اور انہیں اس کی اہمیت بتا بتا کر زیادہ لڑ کے داخل کرائے مگر افسروں نے سمجھ لیا کہ اب اتنے لڑکے آگئے ہیں کہ اگر ان میں سے کچھ بھاگ بھی جائیں تو کوئی حرج نہیں۔حالانکہ میرے نزدیک مدرسہ احمدیہ کی ایک ایک کلاس میں دو دو تین تین سو طلباء ہونے چاہئیں۔میں نے عمر فاروق صاحب اٹالین سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں عیسائیوں میں یہ اصول ہے کہ ہر پانچ سو آدمی کے پیچھے وہ ایک پادری رکھتے ہیں۔ہندوستان میں اس وقت چالیس کروڑ کی آبادی ہے اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہمیں آٹھ لاکھ مبلغ چاہئیں۔بلکہ آٹھ لاکھ بھی کافی نہیں ہو سکتے کیونکہ ہزار ہا گاؤں ہندوستان میں ایسے بھی ہیں جن کی آبادی سوسو اور ڈیڑھ ڈیڑھ سو آدمیوں کی ہے۔اس کے یہ معنے ہوئے کہ ہمیں آٹھ لاکھ کی بجائے سولہ لاکھ مبلغین کی ضرورت ہے تب جا کر ہم ان عیسائیوں کے برابر مبلغ رکھ سکتے ہیں۔سو یا دو سو مبلغ ہندوستان میں رکھنا تو چٹنی کے برابر بھی نہیں۔مگر افسوس ہے کہ لوگوں میں اس کے متعلق ابھی پورا احساس پید انہیں ہوا حالانکہ ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ لڑکوں کو مدرسہ احمدیہ میں داخل کرائیں۔بلکہ ہندوستان میں بھی مختلف جگہوں پر مدرسہ احمدیہ کی شاخیں قائم کریں اور وہاں بھی ہر جماعت میں دو دو اور تین تین سو طالب علم داخل ہو۔مگر لوگ دور بینی بہت کم