زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 147

زریں ہدایات (برائے طلباء) 147 جلد چهارم جو اس مشن کا مقابلہ کرتا ہے، ہر شخص جو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغام کو رڈ کرتا ہے وہ اپنی ہلاکت کے آپ سامان کرتا ہے۔آج اور کل ، پرسوں اور ترسوں، دن گزرتے چلے جائیں گے، زمانہ بدلتا چلا جائے گا، انقلاب بڑھتا چلا جائے گا اور تغیر وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔روز بروز اس سلسلہ کی راہ سے روکیں دور ہوتی جائیں گی ، روز بروز یہ دریا زیادہ سے زیادہ فراخ ہوتا چلا جائے گا۔دریا کے دہانہ کے پاس ہمیشہ چھوٹے چھوٹے نالے ہوتے ہیں جن پر سے ہر شخص آسانی سے کود کر گزرسکتا ہے۔میں نے خود جہلم کے دہانہ کے پاس ایسے نالے دیکھے ہیں اور میں خود بھی ان نالوں پر سے کود کر گزرا ہوں مگر آہستہ آہستہ دریا ایسا وسیع ہوتا جاتا ہے کہ بڑے بڑے گاؤں اور بڑے بڑے شہر بہا کر لے جاتا ہے۔اسی طرح ابھی ہم دریا کے دہانہ کے قریب ہیں۔ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب لوگ ہماری جماعت کے متعلق سمجھتے تھے کہ یہ ایک نالے کی طرح ہے جو شخص چاہے اس پر سے کود کر گزر جائے۔مگر اب ہم ایک نہر کی طرح بن چکے ہیں۔لیکن ایک دن آئے گا جب دنیا کے بڑے سے بڑے دریا کی وسعت بھی اس کے مقابلہ میں حقیر ہو جائے گی۔جب اس کا پھیلا ؤ اتنا وسیع ہو جائے گا، جب اس کا بہاؤ اتنی شدت کا ہوگا کہ دنیا کی کوئی عمارت اور دنیا کا کوئی قلعہ اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکے گا۔پس ہمارے پروفیسروں کے سپر د وہ کام ہیں جو خدا اور اُس کے فرشتے کر رہے ہیں۔اگر وہ دیانتداری کے ساتھ کام کریں گے تو یقیناً کامیاب ہوں گے اور اگر وہ کوئی غلطی کریں گے تو ہم یہی دعا کریں گے کہ خدا اُنہیں تو بہ کی توفیق دے اور اُنہیں محنت سے کام کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔لیکن اگر وہ اپنی اصلاح نہیں کریں گے تو وہ اس سلسلہ کی ترقی میں ہرگز روک نہیں بن سکیں گے۔جس طرح ایک مچھر بیل کے سینگ پر بیٹھ کر اُسے تھ کا نہیں سکتا اسی طرح ایسے کمزور انسان احمدیت کو کسی قسم کی تھکاوٹ اور ضعف نہیں پہنچا سکیں گے۔جن سوالات کو اس وقت میرے سامنے پیش کیا گیا ہے ان سب کے متعلق میں ابھی