زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 146
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 146 جلد چهارم وقت سائنس اپنی حد بندیوں کو توڑ کر اس طرح کا ایک فلسفہ بن چکی تھی کہ اگر احمدیت نے فتح پائی تو یہ کوئی معجزہ نہیں۔اس وقت کے حالات ہی اس فتح کو پیدا کر رہے تھے۔پس یہ پیج جو ہم بور ہے ہیں ہم جانتے ہیں کہ یہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ پیج پھیل جائے گا۔ہمیں یہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ بیچ کبھی ضائع نہیں ہوگا۔ہم خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ یہ پیج ایسا ہے جس میں سے ایک دن ایسا تناور درخت پیدا ہونے والا ہے جس کے سایہ میں بیٹھنے کے لئے لوگ مجبور ہوں گے۔اور اگر وہ نہیں بیٹھیں گے تو تپتی دھوپ میں وہ اپنے دماغوں کو جھلسا ئیں گے اور انہیں دنیا میں کہیں آرام کی جگہ نہیں ملے گی۔پس ہم جانتے ہیں کہ جس راستہ کو ہم نے اختیار کیا ہے وہ ضرور ہمیں کامیابی تک پہنچانے والا ہے۔کسی خیال کے ماتحت نہیں، کسی وہم اور گمان کے ماتحت نہیں بلکہ اُس علیم و خبیر ہستی کے بتانے کی وجہ سے یہ یقین ہمیں حاصل ہوا ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتی ، جس کی بتائی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔یہ ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں پر اعتبار کر کے ہم نے انہیں اس کالج میں پروفیسر مقرر کیا ہے ان میں سے بعض نا اہل ثابت ہوں مگر ان کے نا اہل ثابت ہونے کی وجہ سے اس کام میں کوئی نقص واقع نہیں ہو سکتا۔جس طرح دریا کے دھارے کے سامنے پتھر آ جائے تو وہ بہہ جاتا ہے مگر دریا کے دھارے کو وہ روک نہیں سکتا اسی طرح اگر کوئی شخص غلط کام کرتا ہے یا اپنے کام کے لئے کوئی غلط طریق اختیار کرتا ہے وہ احمدیت کے دریا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے وہ اپنی تباہی کے آپ سامان کرتا ہے وہ مٹ جائے گا مگر جس دریا کو خدا نے چلایا ہے، جس کی حفاظت کے لئے اُس نے اپنے فرشتوں کو آپ مقرر کیا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے بہاؤ کو روک نہیں سکتی۔خواہ وہ یورپ کی ہو، خواہ وہ امریکہ کی ہو، خواہ وہ ایشیا کی ہو اور خواہ وہ دنیا کے کسی اور ملک کی ہو۔ہمیں نظر آ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے یورپ میں بھی اتر رہے ہیں، امریکہ میں بھی اتر رہے ہیں، ایشیا میں بھی اتر رہے ہیں اور ہر شخص