زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 148
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 148 جلد چهارم فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جہاں تک لباس کا سوال ہے میری رائے یہ ہے کہ ہمیں تعلیم کو آسان اور سہل الحصول بنانا چاہئے اور کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے جسے طالہ برداشت نہ کر سکیں تا ایسا نہ ہو کہ غریب لڑکے اس بوجھ کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جائیں۔جہاں تک کھیلوں کا تعلق ہے مجھے افسوس ہے کہ کالجوں میں بعض ایسی کھیلیں اختیار کر لی گئی ہیں جن پر روپیہ بھی صرف ہوتا ہے اور صحت پر بھی وہ برا اثر ڈالتی ہیں۔میں نے یور بین رسالوں میں پڑھا ہے انگلستان میں کھیلوں کے متعلق ایک کمیٹی مقرر کی گئی تھی جس نے بہت کچھ غور کے بعد یہ رپورٹ پیش کی کہ ہاکی کے کھلاڑیوں میں سل کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔یہ تحقیق تو آج کی گئی ہے لیکن میں نے آج سے 21 سال پہلے اس کی طرف توجہ دلا دی تھی اور میں نے کہا تھا کہ میں ہاکی سے نفرت کرتا ہوں یہ صحت کے لئے مضر ہے۔اس سے سینہ کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ جھک کر کھیلنا پڑتا ہے۔5 اسی طرح بعض اور مواقع پر بھی میں توجہ دلاتا رہا ہوں کہ ہا کی قطعی طور پر صحت پر اچھا اثر پیدا نہیں کرتی بلکہ مضر اثر کرتی ہے۔ہاکی میں ہاتھ جڑے رہتے ہیں اور سانس سینہ میں پھولتا نہیں۔اس طرح با وجود کھیلنے کے سینہ چوڑا نہیں ہوتا 6 جب میں نے یہ بات کہی اُس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ ہاکی سے سینہ کمزور ہو کر سل کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔مگر اب دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ اسی طرف آ رہے۔عزیزم مرزا ناصر احمد کا ان الفاظ میں کہ:۔وو وہ تمام قو میں جو انگریز یا انگریزی خون سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کھیلوں کو کوئی تھلیٹکس (ATHLETICS ) کی طرف رہتی ) اہمیت نہیں دیتیں اور ان کی زیادہ ہے اور اس وجہ سے ان قوموں کے طلباء کی صحتوں پر کوئی برا اثر نظر نہیں آتا غالباً جرمنی کی طرف اشارہ ہے جہاں ان کھیلوں پر بہت کم زور دیا جاتا ہے کیونکہ ان کھیلوں پر روپیہ اور وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے مگر صحت کو کم فائدہ پہنچتا ہے۔چنانچہ ان