زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 125
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 125 جلد چهارم سائنس لی ہے؟ تو معلوم ہوا کہ کل 59 ہیں جن میں سے صرف 25 سائنس پڑھتے رہے ہیں۔یہ افسوس ناک بات تھی کیونکہ میرے نزدیک سو فیصدی کو سائنس پڑھنی چاہئے تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں عملی تعلیم جو آئندہ زندگی میں کام آ سکتی ہے سائنس یا ڈرائنگ ہی ہے اس سے غفلت برتنا طالب علم کی زندگی کو تباہ کرنا ہے۔کوشش یہ ہونی چاہئے کہ طلباء اپنی رغبت اور شوق کے ساتھ سو فیصدی سائنس لیں۔پھر اس کے بعد جدھر چاہیں جائیں۔پھر صرف سائنس اتنی وسعت نہیں رکھتی جب تک عملی تجربہ نہ ہو۔مجھے افسوس ہے کہ تحریک جدید کی تحریکوں میں سے جو تحریک ناکام رہی ہے وہ لوہار اور ترکھان کا کام سکھانے والی ہے۔حالانکہ اس قسم کے کام اگر طالب علموں کو سکھائے جائیں تو ان کو بہت کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اب میں کارکنوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے طریق نکالیں کہ طالب علموں کو عملی طور پر صنعتی تعلیم بھی دی جا سکے۔اسی طرح میں نے بتایا تھا کہ حواس خمسہ کی ترقی عملی زندگی پر بڑا اثر رکھتی ہے۔اس کے لئے میں نے بعض کھیلیں بھی بتائی تھیں۔90 فیصدی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ناک کی جس مکمل نہیں ہوتی ، صرف 10 کی اچھی ہوتی ہے۔اب آنکھ کی حفاظت پر زور دیا جا رہا ہے مگر ضرورت ہے کہ ناک، کان، زبان اور لمس کی طاقت کے متعلق بھی باقاعدہ ٹریٹنگ ہو۔پرانے زمانہ میں ایسی کھیلیں کھیلی جاتی تھیں جن سے حواس کی طاقت بڑھتی تھی۔شاید ایسی کھیلوں کو پسند نہ کیا جائے۔ایک کھیل تو رسول کریم ﷺ بھی کھیلے۔ایک صحابی تھے جو بہت معمولی شکل کے تھے۔وہ کوئی چیز بیچ رہے تھے۔نہایت پریشان حال کھڑے تھے۔پسینہ بہ رہا تھا۔رسول کریم ﷺ نے اس حال میں ان کو دیکھا تو پیچھے چلے گئے اور ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔چونکہ رسول کریم ﷺ کا جسم نازک اور نرم تھا اس صحابی نے آپ کو پہچان لیا اور اپنا جسم آپ کے ساتھ ملنا شروع کر دیا 5 یہ لمس کا امتحان تھا۔یہ کھیل ہم بھی کھیلا کرتے تھے۔اس طرح عقل کو بڑھایا جا سکتا ہے اور ایسی کھیلیں ایجاد کی جاسکتی ہیں۔اسی طرح آنکھ سے کسی چیز کا اندازہ کر لینا بھی مشق کرنے