زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 126
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 126 جلد چهارم سے آسکتا ہے۔کانوں کی جس کو بڑھانے والی یہ کھیل ہے کہ آنکھیں بند کر کے ٹانگیں لمبی کر دی جاتی ہیں اور ٹانگوں پر سے لڑ کے گزرتے ہیں۔جن کے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ اب کون گزرا۔جس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں وہ گزرنے والے کے قدم سے یا لباس کی کھڑ کھڑاہٹ سے اس کا پتہ لگاتا ہے۔اور اسی طرح کان کی جس تیز ہوتی ہے۔مگر اب اس قسم کی کھیلوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔حالانکہ یہ اعلیٰ درجہ کے مدر سے تھے جہاں جسوں کی طاقت کو بڑھایا جاتا تھا۔بوسونگھنے کی قوت کو بڑھانے کے لئے میں نے ایک طریق بتایا تھا۔وہ یہ کہ مختلف قسم کی خوشبو میں تھوڑی تھوڑی دور رکھی جائیں اور لڑکوں سے کہا جائے کہ سونگھ کر معلوم کریں کہ کون سی خوشبو کس چیز کی ہے۔جو لڑکا جس خوشبو کو پہچان لے اس کے پاس کھڑا ہو جائے۔اس طرح ان میں کھیل کی وجہ سے جس پیدا ہو گی اور ناک کی جس کا وہ صحیح استعمال کریں گے تو اس میں ترقی ہوتی جائے گی۔ان باتوں کا عملی زندگی میں بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔جس کے ناک کی جس تیز ہو وہ اپنے منہ کی بو دور کر سکتا ہے۔گولیکی اور سدو کی کے لوگوں میں ایک مرض ہے۔جھوٹے صوفیاء نے ان میں عادت ڈال دی ہے کہ ناک کے قریب منہ کر کے باتیں کرتے ہیں اور اس طرح سمجھتے ہیں کہ وہ مرشد کی برکات کا اثر حاصل کرتے ہیں حالانکہ بعض اوقات دوسرے کے منہ سے ایسی بو آتی ہے جو نا قابل برداشت ہوتی ہے۔مگر ان کے ناک کی جس چونکہ ماری جاتی ہے اس لئے وہ خود محسوس نہیں کرتے۔جب ناک کی جس تیز ہوگی تو اپنے منہ کی حالت معلوم ہو جائے گی اور جب منہ کی حالت درست ہو جائے گی تو معدہ کی سڑاند بھی دور ہو جائے گی۔اسی طرح زبان میں چکھنے کی جس ہے جو تجارت پیشہ لوگوں کو ان کے کاروبار میں بڑی مدد دیتی ہے۔ہر قسم کی کھانڈ ایک جتنی مٹھاس نہیں رکھتی۔کسی میں کم کسی میں زیادہ ہوتی ہے۔جس نے کھانڈ مٹھاس کی خاطر لینی ہو وہ چکھ کر پتہ لگا سکتا ہے کہ کس قسم کی کھانڈ میں زیادہ مٹھاس ہے۔ولایت میں چیزوں کے چکھنے اور ان کے ذائقے معلوم کرنے