زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 124

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 124 جلد چهارم سپرنٹنڈنٹ جب نگران کے طور پر ان میں موجود ہو تو طلباء اپنے طور پر کام نہیں کر سکتے۔اسی طرح کھانے کے متعلق میں نے کہا تھا کہ اس کا انتظام طالب علموں کے ہاتھ میں دیا جائے۔جو طالب علم انچارج ہو وہ مہینہ کا پروگرام بنائے اور اس کے مطابق کھانے کا انتظام کرے۔پھر وہ دیکھتا رہے کہ کوئی سودا مہنگا تو نہیں خریدا گیا، کوئی چیز خراب تو نہیں لائی گئی، گھی ناقص تو نہیں استعمال کیا جارہا، ایندھن کیسا ہوتا ہے اور روزانہ کتنا خرچ ہوتا ہے۔عام طور پر لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ اتنے کھانے پر کتنا ایندھن خرچ ہوتا ہے۔نواب محمد علی خان صاحب نے ایک دفعہ اس کا اندازہ لگایا اور پھر اس کے مطابق خرچ کا حساب رکھنے سے بہت فائدہ ہوا۔تو کسی لڑکے کے سپر د کاپی کر دینا کافی نہیں۔اس طرح باور چی نہایت آسانی کے ساتھ اسے اتو بنا سکتا ہے۔اصل طریق یہ ہے کہ لڑکے کو ہر بات کا ذمہ دار بنایا جائے اور اس کا فرض ہو کہ چیزوں کی خرید و فروخت کا خیال رکھے۔اس طرح کئی لڑکوں کو خود بخود ٹریننگ حاصل ہوتی جائے گی۔لیکن اس تجویز پر بھی اس طریق سے عمل کیا گیا جو محض تمسخر تھا کہ صرف اشیاء نوٹ کرنے کے لئے کاپی دے دی گئی۔چاہئے یہ تھا کہ پہلے ایسے عنوان طے کر لئے جاتے جن کی وجہ سے کھانے پکانے کا انتظام کرتے وقت علم میں ترقی ہوتی۔مثلاً اچھی اجناس ایک عنوان ہے۔اس کے متعلق یہ بیان کیا جاتا کہ یہ یہ چیزیں اجناس میں ملائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ خراب ہو جاتی ہیں اور اچھی اجناس اس طرح کی ہوتی ہیں۔پھر جب کوئی خراب جنس ہوگی تو منتظم لڑکا فورا معلوم کر لے گا۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں سے مشقت کے کام ہاتھ سے کرائے جائیں۔مثلاً سبریاں تیار کرائی جائیں اور بورڈنگ میں بچوں کی پیدا کردہ سبزیاں استعمال کی جائیں۔اس طرح عملی کام سے ان کا لگاؤ پیدا کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح سائنس کے کا ذریعہ جو نئے کام نکل سکیں ان پر لیکچر دیے جائیں اور عملی طور پر مہینہ میں کم از کم ایک دفعہ انہیں بتایا جائے کہ بڑے ہو کر وہ کیا کیا کام کر سکتے ہیں۔اب کے انٹرنس کے امتحان میں شامل ہونے والے جو طلباء مجھ سے ملنے کے لئے گئے ان سے میں نے پوچھا کہ کتنوں نے