زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 122
جلد چهارم زریں ہدایات (برائے طلباء ) 122 صرف اینٹ ہے۔لیکن مکان میں اگر کسی جگہ سوراخ ہو جائے جس میں سے پانی اندری آنے لگے اور اُس وقت ایک اینٹ نکال کر اسے پیسا جائے اور اس طرح مصالحہ بنا کر سوراخ کو بند کر دیا جائے تو وہ اینٹ مکان بن جائے گی۔اسی طرح جو شخص قوم کے لئے فنا ہو جاتا ہے وہ ثابت کر دیتا ہے کہ اس نے قوم کے لئے قربانی کی۔اور جو قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنے آپ کو قربان کر دیتا ہے وہ خود نہیں رہتا بلکہ قوم بن جاتا ہے۔یہ ہے وہ روح جو ہر احمدی نوجوان کے دل میں پیدا کرنی چاہئے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ جن میں یہ روح پیدا ہو جاتی ہے وہ معمولی انسان نہیں رہتے۔ان کے چہروں سے ، ان کی باتوں سے اور ان کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ انسان نہیں بلکہ مجسم موت ہیں۔بدر کے موقع پر جب کفار نے اسلامی لشکر کا جائزہ لینے کے لئے آدمی بھیجے تو انہوں نے آ کر کہا کہ سواریوں پر ہمیں آدمی نظر نہیں آتے بلکہ موتیں نظر آتی ہیں۔ان سے نہیں لڑنا چاہئے ورنہ ہماری خیر نہیں ہے 4 جب نو جوانوں میں ہمیں یہ روح نظر آ جائے گی اور ہم دیکھیں گے کہ وہ اسلام کے لئے قربان ہونے کے منتظر بیٹھے ہیں اور پر تو لے ہوئے اس بات کے منتظر ہیں کہ کفر کی چڑیا آئے اور وہ اس پر جھپٹ پڑیں اُس دن ہم جے گے کہ تحریک جدید کا بورڈنگ بنانے کا جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا۔چونکہ یہ کام تعلیم کی درستی کی کوشش ، تربیت کی درستی کی کوشش ، اچھے مطالعہ کی ضرورت اور اچھے ماحول کی ضرورت پر منحصر ہے اس لئے میں کارکنوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس مقصد کو سمجھیں جو ان کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور اس کو کامیاب بنانے کی پوری پوری کرشش کریں۔بورڈ نگ تحریک جدید کے تمام کا رکن واقفین زندگی ہیں اور وقف کرنے کے معنی یہ ہیں کہ میری زندگی جماعت کے لئے ہے۔اب جماعت احمدیہ، تحریک جدید کے بورڈنگ کی صورت میں ان کے سپرد کر دی گئی ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ان کو کسی کام پر باہر ہی بھیجا جائے۔جماعت کے بچوں کی صحیح تربیت بھی بہت بڑی خدمت ہے۔یورپ میں پرنسپل کو وزراء جتنی عزت دی جاتی ہے اور بڑی قدر کی جاتی ہے۔میرے جھیں