زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 123

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 123 جلد چهارم نزدیک ایسے بورڈنگ کا ٹیوٹر ہونا یا مینیجر ہونا یا سپرنٹنڈنٹ ہونا بہت بڑی عزت ہے اور قابل قدر خدمت ہے۔کارکن یہ نہ سمجھیں کہ ان کی عزت پندرہ بیس روپیہ تنخواہ کے لحاظ سے ہوگی۔ان کی عزت ان کے کام کی وجہ سے ہوگی۔تنخواہوں کو ایک جیسا اس لئے رکھا گیا ہے کہ چونکہ سلسلہ کا ہر ایک کام ایک جیسی اہمیت رکھتا ہے اس لئے ایک ہی رنگ کا گزارہ ہونا چاہئے خواہ کوئی انٹرنس پاس ہو یا بی۔اے یا مولوی فاضل۔اگر کارکن اس بات کو سمجھتے تو جانتے کہ قوم کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے اور یہ ایسی ذمہ داری کا کام ہے جس کا اندازہ لگانا انسانی طاقت سے بالا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کیا نتائج نکلیں گے۔پس میں کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی ذمہ داری معمولی نہیں ہے مگر جو کام اس وقت تک انہوں نے کیا ہے وہ بہت معمولی ہے۔اس نے طلباء میں کوئی خاص امتیاز پیدا نہیں کیا۔اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔مگر یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک طالبعلموں میں دین کے متعلق محبت اور دلچسپی نہ پیدا کر دی جائے اور ایسی طرز سے ان کی تعلیم و تربیت نہ کی جائے کہ وہ اسے مشقت نہ سمجھیں بلکہ کھیل کے طور پر خیال کریں۔اسی طرح طلباء کے جسمانی قومی اور حسیات کو بھی بڑھانا اور ترقی دینا چاہئے۔اس کے لئے ان سے ایسے کام لئے جائیں جو کھیل کے کھیل ہوں اور جسمانی قومی کو ان سے ترقی حاصل ہو۔مغربی کھیلوں کو ترک کر دینا چاہئے کیونکہ ان میں امیر وغریب میں امتیاز پایا جاتا ہے اور صحت کے لئے اور قومی کی ترقی کے لئے وہ ایسی مفید نہیں ہیں جیسی وہ کھیلیں جو ہمارے ملک میں رائج تھیں۔ہماری دیسی کھیلیں یقیناً فٹ بال اور ہاکی سے زیادہ مفید ہیں۔دراصل کھیلیں ایسی ہونی چاہئیں جن سے انسانی ذہن کی بھی ترقی ہو۔فٹ بال میں مقابلہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے مگر بہت اونی درجہ کا۔اسی طرح میں نے تحریک جدید کے بورڈنگ کے بورڈروں کے لئے یہ بھی رکھا تھا کہ اگر کسی طالب علم سے کوئی قصور سرزد ہو تو اس کی سزائر کے ہی تجویز کریں۔اس طریق کو غالباً اب چھوڑ دیا گیا ہے۔اور جب یہ جاری تھا اُس وقت بھی درست طور پر نہیں تھا۔