زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 121
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 121 جلد چهارم اپنے منشاء کے ماتحت اسے توڑا اور اسے شہادت دے دی تا کہ بعد کے آنے والے زندہ رہیں۔اس وجہ سے خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے والوں کے اعمال جاری رہتے ہیں۔وہ جن کے ساتھ زندگی میں مل کر کام کرتے تھے ان کے اعمال جس قد رثواب کے مستحق ہوں گے اسی قدر ثواب شہادت پانے والوں کو بھی ملے گا یعنی جس درجہ اور جس درجہ کی قربانی کرنے والا کوئی شہید ہوگا اسی درجہ کے مطابق اسے انعام ملیں گے اور موت اس سے اس کو محروم نہیں کر سکے گی۔دیکھو بعض صحابہ ایسے تھے کہ انہیں اسلام لائے دو چار ہی دن گزرے تھے کہ لڑائی میں شہادت پاگئے۔کیا ان کے اعمال ختم ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ ان کو اُس وقت تک وسعت دی جائے گی جب تک کہ ان کے ساتھ کے صحابہ زندہ ہیں۔غرض دین کی راہ میں قربانی بہترین چیز ہے اور جنہیں یہ حاصل ہو ان کی قدر دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہونی چاہئے۔قرآن کریم نے ایسا ہی کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ آپ دعا کیا کرتے تھے کہ مجھے شہادت حاصل ہو اور مدینہ میں ہی ہو 3 آخر انہیں حاصل ہو گئی اور مدینہ میں ہی حاصل ہوئی مگر تعجب ہے ان جیسے انسان نے یہ دعا کس طرح کی۔مدینہ میں انہیں شہادت ملنے کے یہ معنی تھے کہ دشمن مدینہ پر حملہ کرے اور وہ اس قدر غلبہ پالے کہ مسلمانوں کے خلیفہ کو قتل کر دے۔مگر با وجود اس کے حضرت عمر شہادت کے لئے دعا کیا کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا درجہ ہے کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ اس کی تمنا کیا کرتے تھے۔یہ روح اور یہ ولولہ ہر احمدی کو اور خاص کر ہر احمدی نوجوان کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے اور ایک ایک طالب علم کے ذہن نشین یہ بات کر دینی چاہئے کہ اصل چیز جس کا قائم رہنا ضروری ہے وہ اسلام اور احمدیت ہے۔ہر احمدی قصر احمدیت کی اینٹ ہے اور اگر کسی وقت کسی اینٹ کو اس لئے تو ڑ کر پھینکنا پڑے کہ قصیر احمدیت کے لئے یہی مفید ہے تو اسے اپنی انتہائی خوش قسمتی سمجھنا چاہئے۔دیکھو ا ینٹ جب تک مکان کی دیوار میں لگی رہے