زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 120
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 120 جلد چهارم اس کے نہ جاننے کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک نقص پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان میں قربانی کا مادہ کم ہو گیا ہے۔اس نقص کو ایک قوم نے دور کیا مگر ایسے رنگ میں کہ اور زیادہ خرابیاں پیدا ہو گئیں۔وہ قوم شیعہ ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں زندہ مسلمانوں کی جس قدر تعریف کی گئی ہے اس سے بہت زیادہ مرنے والوں کی کی گئی ہے۔چنانچہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَه زیادہ زور والے الفاظ ہیں بہ نسبت وَمِنْهُم مَّن ينظرُ 1 کے مگر مُردہ قوموں میں یہ بات پائی جاتی ہے اور پور پین اقوام میں بھی جو اپنے آپ کو بہت ترقی یافتہ مجھتی ہیں یہ بات موجود ہے۔گو وہ اس وقت نمایاں نہیں مگر جب یہ تو میں گریں گی تب معلوم ہوگا کہ وہ زندوں کی زیادہ تعریف کرتی ہیں اور جو دوسروں کی خاطر اپنی جان قربان کر دیں ان کی کم۔قرآن کریم میں شہداء کو زندہ قرار دیا گیا ہے 2 اس لئے کہ اگر وہ زندہ رہتے تو اور زیادہ نیکیاں کرتے۔اب وہ اللہ کے حضور رزق دیئے جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کو رزق نہیں دیا جاتا۔وہاں کا جو بھی رزق ہے وہ دوسروں کو بھی دیا جاتا ہے۔شہداء کے رزق کا مطلب ان کا حصہ ہے یعنی دنیا میں جو اچھے کام ہو رہے ہیں ان کے ثواب کا حصہ ان کو بھی دیا جا رہا ہے۔دین کی جو خدمات زندہ رہنے والے کر رہے ہیں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی کو بھی ان کا ثواب مل رہا ہے۔کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ بھی یہ خدمات سرانجام دیتے۔پس خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ ایک مومن کے ساتھی جب تک زندہ رہتے اور دین کی خدمات سرانجام دیتے ہیں مرنے والے کو اس حیثیت سے جس میں وہ مرا ثواب ملتا رہتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ سبق دیا ہے کہ ایسے موقع پر جو شہادت پا جائیں ان کو زندہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شہید کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ بہت جلد اعلیٰ مدارج حاصل کر لیتا ہے۔اس لئے نہیں کہ تھوڑی خدمت کے بدلہ میں اسے اعلیٰ مدارج حاصل ہو جاتے ہیں بلکہ اس لئے کہ تھوڑے دن خدمت کر کے وہ اسی راہ میں جان دے دیتا ہے۔اگر وہ زندہ رہتا تو اس کے نیک اعمال کا تسلسل جاری رہتا۔مگر خدا تعالیٰ نے