زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 119

زریں ہدایات (برائے طلباء) 119 جلد چهارم پس ایک تو جانے والے اور پیچھے رہنے والے طلباء کو میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ انجمن بنا کر اپنے ذمہ یہ کام لیں کہ کم از کم ایک ایک اور طالب علم داخل کریں گے اور پھر کوشش کریں کہ 145 کی تعداد اگلے سال کم از کم 290 ہو جائے۔اگر وہ ایسا کریں گے تب مجھے معلوم ہوگا کہ انہیں یہاں آنے کے فوائد کا احساس ہے۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ طالب علم اور ٹیوٹرز ، سپرنٹنڈنٹ اور ہیڈ ماسٹر وغیرہ کے تعلقات ایک دوسرے سے تعاون پر مبنی ہونے چاہئیں ورنہ حقیقی فائدہ نہیں حاصل ہو سکتا۔جس طرح استاد اور ٹیوٹر طلباء کے نگران ہوتے ہیں اسی طرح طلباء ان کے نگران ہوں۔مگر وہ نگرانی تعاون والی ہو اور ترقی کی طرف لے جانے والی ہو۔ایسی نہ ہو جس میں بغاوت اور خودسری پائی جائے۔میں کارکنوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں اب تک اس کام پر خوش نہیں ہوں جو ہوا ہے۔در حقیقت اس وقت تک طلباء کو جو فوائد پہنچے ہیں وہ اس لئے پہنچے ہیں کہ یہاں پہلے سے ایک نظام کے ماتحت کام ہو رہا ہے۔بورڈ نگ تحریک جدید کی طرف سے ابھی تک ایسا کوئی انتظام نہیں جس سے وہ پروگرام پورا ہو جس کے لئے یہ بورڈنگ جاری کیا گیا تھا۔اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کوئی خاص نتائج نہیں پیدا ہوئے۔اگر اس بورڈنگ کو اس رنگ میں چلایا جائے جو میرے پیش نظر ہے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے مذہبی لیڈر اور راہنما پیدا ہو سکیں گے جو دنیا میں عظیم الشان روحانی تغیر پیدا کر دیں گے۔اس کے لئے ضرورت ہے کہ رات دن ان طلباء کو ان کے فرائض ذہن نشین کرائے جائیں۔ان کو بتایا جائے کہ قوم کے لئے کسی فرد کا قربان ہونا اس کے لئے نقصان دہ بات نہیں ہوتی بلکہ بہت بڑی خوش قسمتی کی علامت ہوتی ہے۔اور یہ زیادہ سے زیادہ عزت کا مقام ہے کہ کسی کو قوم کے لئے بنیاد بننے کا موقع میسر آ سکے۔ایسی بنیاد جس پر شاندار عمارت تیار ہو سکے۔نو جوانوں میں یہ روح پیدا کرنے کے لئے علم النفس کا جاننا نہایت ضروری ہے۔