زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 94
زریں ہدایات (برائے طلباء) 94 جلد سوم ذریعہ اس بات کا علم ہوا تھا کہ سمندر کے پرے بھی زمین ہے اور وہ ملک یورپ سے بھی بڑا ہے اور اس کشف کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔وہ کتاب اب بھی موجود ہے اور اس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے اس سے مسلمانوں میں یہ خیال پھیل گیا اور مسلمانوں سے کولمبس نے سنا تھا ) اس بات کو سن کر کولمبس کو تحقیق کا شوق پیدا ہوا لیکن وہ غریب تھا اس نے حکومت سے مدد حاصل کرنے کے لئے درخواست کی۔اس پر چین کے بادشاہ نے اپنے امراء وزراء کو جمع کیا اور پادریوں کو بھی جمع کیا تا ان سے اس معاملے میں مشورہ لے کہ آیا کولمبس کو مدد دی جائے یا نہ دی جائے۔روم کے پوپ کا جانشین کارڈ نیل بھی وہاں حاضر ہوا تھا اس نے کھڑے ہو کر کہا کہ اگر کولمبس کا خیال درست ہے کہ سمندر کو عبور کر کے زمین پر پہنچا جاسکتا ہے تو وہ زمین تو ہندوستان کی زمین ہی ہوگی کیونکہ اور کوئی ملک تو ہے نہیں۔اور اگر ہندوستان تک ادھر سے پہنچا جا سکتا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ زمین گول ہے۔اس کا رڈ نیل نے کہا کہ کولمبس پاگل ہے کیونکہ زمین گول نہیں ہوسکتی کیونکہ زمین گول نہ ہونے کیلئے دو دلیلیں ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر زمین گول ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ زمین پر بعض حصے ایسے ہوں گے جہاں لوگوں کے سر نیچے کی طرف ہوں گے اور پاؤں اوپر کی طرف ہوں گے اور بارش وہاں نیچے سے اوپر کو ہوتی ہوگی اور درخت اوپر سے نیچے کو بڑھتے ہوں گے وغیرہ۔جب یہ باتیں خلاف عقل ہیں تو زمین گول کیسے ہوسکتی ہے؟ پھر اس نے کہا کہ زمین گول نہیں ہوسکتی کیونکہ توریت میں زمین چپٹی لکھی ہے۔دیکھو اس کارڈینل نے تکبر کیا اور کولمبس کو جاہل اور پاگل قرار دیا حالانکہ خود جہالت ہے۔ان میں پھنسا ہوا تھا۔آجکل بچہ بچہ جانتا ہے کہ زمین کو چھپٹی کہنا جہالت اور پاگل پن ہے۔سب باتوں سے معلوم ہوا کہ ادنی آدمی سے علم سیکھنے کو عار سمجھنا اور تکبر کرنا جہالت ہے۔آجکل کے طلباء کنویں کے مینڈک کی طرح اپنے علم کو کامل سمجھ لیتے ہیں۔اپنے علم کو کامل سمجھ لینا علم میں بہت بڑی روک ہوتی ہے۔بلکہ جوں جوں انسان علم میں ترقی کرتا