زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 95

زریں ہدایات (برائے طلباء) 95 جلد سوم ہے توں توں اس پر اپنے علم کا نقص اور بھی کھلتا جاتا ہے۔دیکھو علوم کے ماہر جب نئی باتیں بیان کرتے ہیں تو اکثر مشکی طور پر بیان کرتے ہیں اور تھیوری (Theory) کے رنگ میں بات پیش کرتے ہیں۔مگر ایک ان پڑھ آدمی کو کسی بیماری کے ایک نسخہ کا علم ہو تو وہ تحدی کے ساتھ کہتا ہے کہ بھئی! یہ دوائی استعمال کرو فوراً شرطیہ آرام آجائے گا۔لیکن ایک ڈاکٹر جب دوا تجویز کرے گا تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ شرطیہ آرام آجائے گا بلکہ وہ کہے گا کہ میں ذمہ نہیں لے سکتا امید ہے کہ اس سے فائدہ ہوگا۔پس اپنے علم کو کامل سمجھ لینا ہی جہالت ہے۔طلباء کو اپنی طبیعت میں انکساری پیدا کرنی چاہئے تا علم میں ترقی ہو۔لیکن خیال رہے کہ اس انکساری پیدا کرنے کا یہ نتیجہ نہ ہو کہ طبیعت میں دنایت اور کم ہمتی پیدا ہو جائے۔ایسا نہ ہو کہ جو بات سنوا سے فوراً ہی قبول کرلو بلکہ بات سنوضرور اور اس نیت سے سنو کہ اگر صحیح اور حق بات ہو تو قبول کر لیں گے لیکن بغیر تحقیق کے فوراً قبول کر لینا درست نہیں اس سے دنایت پیدا ہوتی ہے خدا داد عقل کو بھی استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔پس (1) سچ بولنے کی عادت ڈالی جائے۔تمہارے کلام میں کسی قسم کا جھوٹ کا شائبہ نہ ہو۔لیکن ایسے موقعوں پر جہاں کچی بات کے اظہار کی ضرورت نہ ہو اور سچی بات کے بیان کرنے سے بداخلاقی کے عیب کے پیدا ہونے کا احتمال ہو وہاں سچی بات کا اظہار نہ کرو اور خاموش رہو۔اور جس جگہ سچی بات کا اظہار ضروری ہو وہاں بھی ایسے طریق سے اجتناب چاہئے جو بے ادبی کا طریق ہو۔(2) دین کی طرف توجہ کرو۔دین کے علم کو معمولی نہ سمجھو۔دین کا علم سیکھو اور بار بار دینی کتب کا مطالعہ کرو اور دین کے احکام پر عمل کرو۔لیکن چند احکام کو صرف ظاہری طور پر ادا کر لینے کو ہی کافی نہ سمجھو اور ان احکام کی روحانی حقیقت اور مغز اور فائدہ کے حاصل کر لینے کے بغیر مطمئن نہ ہو۔ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ریاء کا رنگ اختیار کر لیں۔(3) علم سیکھو اور اپنے سے ادنی انسان سے بھی علم سیکھنے میں عار نہ سمجھو۔اپنے علم کو کامل نہ