زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 93
زریں ہدایات (برائے طلباء) 93 جلد سوم ہوگئی طبیب نے کئی دواؤں سے علاج کیا مگر افاقہ نہ ہوا۔اتفاقاً ایک بوڑھی عورت آئی اس نے کہا میں علاج بتاتی ہوں۔چھلیوں کو ابال کر پانی پلایا جائے۔طبیب نے اس بڑھیا کی بات کو حقارت سے نہ دیکھا بلکہ اس کی بات پر غور کر کے کہا کہ ہاں بے شک چھلیوں میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو معدہ کیلئے بھی مفید ہیں اور دماغ اور اعصاب پر بھی ان کا اچھا اثر پڑتا ہے امید ہے کہ ان سے بیماری کو افاقہ ہوگا چنانچہ اس کو چھلیوں کا پانی پلایا گیا اور واقعی بیماری دور ہوگئی۔دیکھو ایک ان پڑھ بڑھیا کی بات پر غور کیا تو طبیب کے اپنے علم میں اضافہ ہو گیا اور اگر وہ یہ سمجھتا کہ میں تو طب کا عالم ہوں اور یہ بڑھیا جاہل ان پڑھ ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ کسی بات میں مجھے سبق پڑھا سکے تو نہ تو بادشاہ کی بیماری دور ہوتی اور نہ ہی طبیب کے علم میں اضافہ ہوتا۔پس یا درکھو کہ کبھی دل میں تکبر پیدا نہ کرو کہ ہم بڑے عالم ہیں ہمیں کون سبق دے سکتا ہے۔حضرت امام ابو حنیفہ کا ذکر ہے ان سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ نے سب سے بڑا سبق کس سے سیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا استاد تو میرے بہت گزرے ہیں مگر سب سے بڑا سبق میں نے ایک بارہ برس کے بچے سے سیکھا ہے۔فرمانے لگے ایک دفعہ بارش کے موسم میں میں باہر چلا جارہا تھا میں نے ایک بارہ برس کے بچے کو دیکھا کہ سڑک پر بھاگا جارہا تھا زمین پھسلنی تھی میں نے اسے کہا بھئی ! ذرا سنبھل کے چلنا کہیں گر نہ پڑو۔اس نے آگے سے جواب دیا کہ اے امام! میں گرا تو اکیلا گروں گا اور اگر آپ گرے تو اکیلے نہیں بلکہ ایک دنیا آپ کے ساتھ گرے گی کیونکہ آپ امام و پیشوا ہیں پس آپ بہت ہی سنبھل کے چلئے۔اب دیکھو حضرت امام ابوحنیفہ جیسے انسان ایک بارہ برس کے بچے سے سبق سیکھتے ہیں۔غرضیکہ تکبر انسان کو جہالت میں رکھتا ہے۔اپنے علم کو کامل سمجھنا ہی جہالت ہے۔کولمبس کے واقعہ کا یوں ذکر ہے کہ اس نے مسلمانوں سے یہ بات سنی تھی کہ سپین کے مغرب میں جو اٹلانٹک اوشن ہے اس سے پرے بھی زمین ہے اور وہ ملک یورپ سے بھی بڑا ہے۔( کولمبس کے زمانے سے تین سو سال قبل حضرت محی الدین ابن عربی کو کشف کے