زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 75
زریں ہدایات (برائے طلباء) 75 جلد سوم لوگ اس کے لئے کیوں سب کچھ قربان نہیں کر دیتے۔مگر جب اسے کچھ مل جاتا ہے تو وہ ان سے بھی گیا گزرا ہو جاتا ہے جن پر ہنسا کرتا تھا۔تم سکول سے نکلنے والے ہو۔تمہارے دل میں بھی کئی خیالات ہوں گے اور تم نے بھی بڑے بڑے ارادے کیسے ہوں گے مگر یہ سب خیالی باتیں ہیں۔اصل اُسی وقت کہی جاسکیں گی جب تم عملی زندگی میں ان کو اختیار کرو گے اور ان کو پورا کر کے دکھا دو گے ورنہ یاد رکھو جو شخص خیالی پلاؤ زیادہ پکانے کا عادی ہوتا ہے وہ زیادہ ناکام ہوتا ہے۔وجہ یہ کہ ایسے شخص دماغ سے زیادہ کام لیتے ہیں اور جو ایسا کرتے ہیں وہ عملی طور پر بہت کم کام کرتے ہیں۔پس پہلی نصیحت میں تم کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جو یہ تمہارے لئے موت اور زندگی آنے والی ہے موت تو اس حالت سے نکلنا ہے جس میں اب تک تم رہے ہو اور زندگی دوسری حالت ہے جس میں تم خواہ ملازمت کر دیا کالج میں داخل ہو جاؤ یا کوئی اور کاروبار کرواس کیلئے تم خیالی پلاؤ نہ پکاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو اس سے یا تو ایسا زنگ لگ جائے گا کہ تمہیں عملی طور پر کام کرنے کی توفیق نہ ملے گی یا پھر تم مایوس ہو کر نا کام ہو جاؤ گے۔ہم دیکھتے ہیں آجکل چونکہ اکثر طالب علم خیالی پلاؤ پکاتے ہیں اور بڑے بڑے منصوبے باندھتے ہیں جنہیں گورنمنٹ بھی پورا نہیں کر سکتی۔اور اگر ان کی اپنی گورنمنٹ ہوتی تو وہ بھی پورا نہ کر سکتی اس لئے وہ اپنے منصوبوں سے مایوس ہو کر سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ ہماری دشمن - اور ہماری ترقی کو روکنا چاہتی ہے۔اگر طالب علم خیالی پلاؤ نہ پکائیں تو انہیں عملی زندگی میں آکر مایوسی نہ ہو اور نہ وہ گورنمنٹ کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کے خلاف ہو جائیں۔تمہیں آئندہ زندگی کیلئے تیاری کرنی چاہئے اور خوب زور کے ساتھ اور پوری محنت کے ساتھ کرنی چاہئے۔لیکن اپنے لئے انعام تجویز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جس طرح روحانی زندگی کا انعام دینے والا خدا ہی ہے اسی طرح اس زندگی کا انعام دینے والے دوسرے ہیں۔انسان کا اپنا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو تیار کرے نہ کہ اپنے لئے انعام بھی خود تجویز کرے۔پس میری ایک نصیحت یہ ہے کہ اپنے ذہنوں سے ایسے خیال نکال دو اور پھر آئندہ ہے