زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 76
زریں ہدایات (برائے طلباء) 76 جلد سوم زندگی کیلئے تیاری کرو اور موجودہ حالت کی فکر رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔دوسری نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں تم نے جو تعلیم حاصل کی ہے تمہیں آنے والی زندگی میں اسے خرچ کرنے کا موقع ہوگا۔تم نے یہاں تعلیم کے دوران روحانی تعلیم بھی حاصل کی ہے اس کے متعلق بھی تمہارا امتحان ہو گا۔کئی لوگ ہوتے ہیں جو اس امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں۔جب تک یہاں رہتے ہیں نماز پڑھتے ہیں لیکن باہر جا کر چھوڑ دیتے ہیں۔یہاں رہ کر سلسلہ سے بڑا تعلق ظاہر کرتے ہیں لیکن باہر جا کر اس تعلق کو توڑ دیتے ہیں اور جس طرح حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا تھا کہ جہاں کے لوگ تمہاری بات نہ سنیں وہاں کی گرد بھی اپنے پاؤں سے جھاڑ آنا اسی طرح وہ کرتے ہیں۔تم بھی یہ غور کر لو یہاں کی زندگی تمہارے لئے بیج کی طرح ہوگی جو آگے بڑھتی رہے گی اور اس کے شگوفے نکلتے رہیں گے یا گرو کی طرح جسے تم جاتے وقت جھاڑ جاؤ گے۔اگر بیج کی طرح ہے تو بیج کی طرح ہی اس کی حفاظت کرنے سے تمہیں فائدہ حاصل ہو سکے گا ورنہ نہیں۔اور بیج کے رکھنے کا یہی قاعدہ ہے کہ اسے انسان تر و تازہ رکھے اور گھن نہ لگنے دے۔تمہارے لئے اس پیج کو محفوظ رکھنے کا یہ طریق ہے کہ مرکز سے تعلق رکھو۔اس وقت تمہاری نسل ایک کو نیل کی طرح ہے جو باڑ کے اندر ہو اور جسے کوئی جانور نہ کھا سکتا ہو۔اگر تم باڑ کے اندر رہو گے تو محفوظ رہو گے اور اگر تم فیصلہ کر لو کہ جو چیز تمہیں یہاں سے ملی ہے وہ تمہارے لئے مفید ہے تو تمہیں اس کی حفاظت کرنے کا بھی فیصلہ کر لینا چاہئے۔اور حفاظت اسی طرح ہو سکتی ہے کہ مرکز سے تعلق مضبوط رکھو اور اس میں کبھی کمزوری نہ آنے دو۔اگر تم اس طرح کرو گے تو جو کچھ تم نے حاصل کیا ہے وہ نہ صرف محفوظ رہے گا بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جائے گا۔اس بات کو خوب اچھی طرح یا درکھو۔اس کے بعد میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ جہاں انسان رہتا ہے وہاں کے لوگوں سے چونکہ اسے تعلق پیدا ہو جاتا ہے اس لئے کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان سے