زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 74

زریں ہدایات (برائے طلباء) 74 جلد سوم ہوتی ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم یوں کریں گے، پھر یوں کریں گے اور یہ ہو جائے گا۔عجیب عجیب خیالی پلاؤ پکاتے ہیں لیکن جب عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو صبح سے شام تک بیوی بچوں کے فکر میں ہی پڑے رہتے ہیں۔پہلے تو طالب علم سمجھتا ہے کہ میں کسی کا محتاج نہیں ہوں سب میرے محتاج ہیں لیکن جب طالب علمانہ حالت سے نکلتا ہے تو اپنے آپ کو سب کا محتاج پاتا ہے۔یہ عام قاعدہ ہے کہ جس کو کوئی احتیاج نہ ہو لوگ اس کی عزت کرتے ہیں اور جب اُسی کو احتیاج پیدا ہو جائے تو پھر نہیں کرتے۔اسی قاعدہ کے ماتحت طالب علمی کی حالت میں چونکہ طالب علم کو لوگوں سے کوئی احتیاج نہیں ہوتی اس لئے لوگ اس کی عزت کرتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ جاتا ہے لیکن جب وہ اس حالت سے نکلتا ہے اور اسے ملازمت حاصل کرنے یا اور کوئی ذریعہ معاش پیدا کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی ہے تو اس کی ویسی عزت نہیں کرتے جیسی پہلے کرتے تھے۔جس کے پاس جاتا ہے وہ سمجھتا ہے کسی مطلب کیلئے ہی آیا ہے اس وقت اُسے اپنی اصلی حالت کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو دوسروں کا محتاج پاتا ہے اور طالب علمی کی زندگی میں جتنے منصوبے اس نے باندھے ہوتے ہیں عملی زندگی میں آکر ان سب سے دستبردار ہو جاتا ہے۔پس اکثر طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو تعلیم پانے کے زمانہ میں بڑے بڑے ارادے کرتے ہیں لیکن جب ان ارادوں کو پورا کرنے کا وقت آتا ہے تو بالکل بھول جاتے ہیں۔قرآن کریم میں اشارتاً ایک شخص کا ذکر آتا ہے کہ کوئی شخص تھا جو کہا کرتا تھا کہ وہ لوگ جن کے پاس مال ہے وہ کیوں اسلام کیلئے نہیں دیتے اگر میرے پاس ہو تو دے دوں مگر جب خدا نے اسے مال دیا تو اس نے زکوۃ دینا بھی چھوڑ دی۔بات یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ کہتا ہے اگر ہو تو میں اس طرح کروں۔طالب علموں کے پاس بھی چونکہ کچھ نہیں ہوتا اس لئے وہ کہتے ہیں جب ہمارے پاس کچھ ہو گا تو ہم سب کچھ قربان کر دیں گے۔لیکن جب وقت آتا ہے تو کچھ بھی نہیں کرتے۔پہلے تو طالب علم جس فرقہ اور جس قوم سے تعلق رکھتا ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ