زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 45

زریں ہدایات (برائے طلباء) 45 جلد سوم چاہئیں جنہیں مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ہمارا کوئی کام قومی نہیں کہلا سکتا۔قومی کام تو یہ ہوتا ہے کہ ایک جتھا ہے وہ اپنے سیاسی اغراض کے لئے جو کام کرتا ہے اسے قومی کام کہتا ہے۔اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ دین کیا کہتا ہے۔وہ ہر کام میں اپنے جتنے کو مد نظر رکھتا ہے کہ وہ نہ ٹوٹے خواہ کسی دینی اور مذہبی بات کے خلاف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔چنانچہ آجکل کے مسلمان کئی ایک کام ایسے کرتے ہیں جو اسلام کے بالکل خلاف ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ قومی کام ہے کیا کریں اگر ایسا نہ کریں تو قوم ٹوٹتی ہے۔مگر دیکھو یہ لوگ جس کو قوم قوم کہتے ہیں اس کو ہم نے چھوڑ دیا ہے یا نہیں۔بظاہر ہمارا غیر احمدیوں سے الگ ہونا ہمارے لئے نقصان کا باعث تھا لیکن ہم نے دین کی خاطر اس کی کوئی پرواہ نہیں کی پس ہمارا کوئی کام قومی کام نہیں بلکہ ہر ایک مذہبی ہے اس لئے ہمیں یہ لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے اور اسے بالکل چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ یہ سکھاتا ہے کہ جتھے کے مقابلہ میں مذہب کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ہاں ہمیں اپنی کوششوں اور کاموں کے متعلق مذہبی ، دینی ، اسلامی الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔اخیر پر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ طلباء کی اس انجمن نے جو کام کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ بہت کچھ ماسٹر عبدالمغنی صاحب کی کوشش کا نتیجہ ہے۔اس لئے جہاں کام کرنے والے طلباء قدر کے قابل ہیں وہاں ماسٹر صاحب ان سب سے بڑھ کر تعریف کے مستحق ہیں۔سب دوست دل سے انہیں جزاک اللہ ہیں۔میرے نزدیک طلباء میں دینی کاموں میں حصہ لینے کی روح پیدا کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک پودے کو پانی دے کر کارآمد بنانا۔لیکن جب وہ بڑے ہو جائیں تو اُس وقت یہ بہت مشکل کام ہو جاتا ہے۔اس لئے میں اس بات کو بہت پسند کرتا ہوں کہ طلباء میں دینی کام کرنے کا احساس اور مادہ پیدا کیا جائے مگر ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھا جائے کہ اس سے ان میں کسی قسم کی نخوت ، تکبر اور بڑائی نہ پائی جائے۔خدا تعالیٰ ہمارے بچوں کو دینی کاموں میں صہ لینے کی توفیق بخشے۔“ (الفضل 5 جنوری 1918ء)