زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 44
زریں ہدایات (برائے طلباء) 44 جلد سوم اس کے بعد مولوی عبد المغنی صاحب نے مذکورہ بالا انجمن کے متعلق کچھ قواعد پیش کئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جو طالب علم دس روپیہ یا اس سے زیادہ کی رقم جمع کر کے لائے ہیں انہیں ممبر بنایا جائے اور آئندہ بھی جو طالب علم کم از کم اتنی رقم لائے وہ ممبر ہوسکتا ہے۔اس پر حضرت خلیفہ اسبیع الثانی نے فرمایا کہ:۔ماسٹر عبد المغنی صاحب نے اس وقت جور پورٹ انجمن شبان الاسلام کی سنائی ہے اس میں مجھے بھی اپنا ایک وعدہ یاد دلایا ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ڈیڑھ سو کی رقم ایسی ہے جو ا بھی وصول نہیں ہوئی۔اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ جب انہیں یہ رقم وصول ہو جائے اُسی وقت میرے پاس آجائیں میں اپنی موعودہ رقم دے دوں گا۔باقی جو انہوں نے قواعد پیش کیے ہیں ان کی اصلاح یا تصدیق کا موقع نہیں ہے۔انہیں چاہئے تھا کہ پہلے میرے سامنے پیش کرتے۔فی الحال میں اتنا کہتا ہوں کہ انہوں نے جو قاعدہ ممبروں کے متعلق تجویز کیا ہے وہ مجھے پسند نہیں ہے۔اسلام کسی مذہبی انجمن کے ممبر کے لئے اس قسم کی کوئی شرط مقرر نہیں کرتا بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کسی نے دینی کام کرنے میں کس قدر محنت اور کوشش سے کام لیا ہے۔اگر ایک طالب علم کسی ایسی جگہ چندہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں کے لوگ احمدیت کے سخت مخالف ہیں اور اسے لوگوں سے جھڑ کیاں ، طعنے اور سخت الفاظ سننے پڑتے ہیں اور اس طرح وہ ایک پیسہ ہی چندہ لاتا ہے تو وہ اُس طالب علم سے بہتر ہے جو اپنے باپ یا رشتہ داروں سے ایک بڑی رقم حاصل کر کے پیش کر دیتا ہے۔پس اس قسم کی شرط اس روح | اور جذبہ کو مٹانے والی ہے جو اسلام پیدا کرتا ہے کیونکہ اسلام اخلاص چاہتا ہے اس لئے ممبر بننے والوں کے لئے یہ شرط نہیں ہونی چاہئے۔بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ کسی نے دین کے لئے کس قدر محنت اور کوشش کی ہے۔باقی شرائط کے متعلق میں اس وقت فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ہاں ایک اور بات کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ آجکل ایک مکروہ اور نا پسندیدہ لفظ عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو یہ ہے کہ قومی کام۔یہ ایسے الفاظ انہیں لوگوں کے لئے رہنے