زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 46
زریں ہدایات (برائے طلباء) 46 جلد سوم خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا کرو 24 فروری 1920ء کو حضرت خلیفۃ السیح الثانی نے لاہور سے روانہ ہوتے وقت احمدی مردوں، عورتوں اور طلباء سے خطاب فرمایا۔اس خطاب کے آخر میں طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: دو خصوصاً میں طالب علموں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے دلوں میں خاص طور پر دین کی محبت پیدا کریں اور حالتوں کو بہت زیادہ اچھا بنائیں۔خود خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں گاڑلیں کیونکہ محبت ہی قدرت کلام اور شان و شوکت اور اثر کو پیدا کرتی ہے۔پس طالب علم خاص طور پر خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں اور ایسی محبت پیدا کریں کہ دنیا کی کوئی چیز اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے۔جب یہ حالت پیدا ہو جائے گی تو وہ دیکھیں گے کہ ان کے اندر ایسی روشنی اور ایسا نور پیدا ہو جائے گا کہ کسی سے کوئی بات منوانے میں انہیں رکاوٹ پیش نہ آوے گی اور کوئی علم ایسا نہ ہو گا جو اسلام کے بطلان کے لئے نکلا ہو اور وہ اسے پاش پاش نہ کر دیں۔مجھے محبت کے متعلق اپنا ایک بچپن کا رویا یاد ہے میری اُس وقت کوئی گیارہ بارہ برس کی عمر تھی۔میں نے دیکھا ایک سٹیچو ہے جیسا کہ امرتسر میں ملکہ کا سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے اس کے اوپر ایک بچہ ہے جو آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بلاتا ہے۔اتنے میں آسمان سے کوئی چیز اتری ہے جو نہایت ہی حسین عورت ہے۔جس کے کپڑوں کے ایسے عجیب و غریب رنگ ہیں جو میں نے کبھی نہیں دیکھے۔اس نے چبوترے پر اتر کر اپنے پر پھیلا دیئے اور نہایت محبت سے بچہ کی طرف جھکی ہے۔وہ بچہ بھی و