زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 333

زریں ہدایات (برائے طلباء) 333 جلد سوم تعریف و توصیف کرنا اپنا فرض سمجھے گا۔اسی طرح حضرت کرشن اور رام چندر جی کے حالات پڑھنے والا ان کے متعلق خراج تحسین ادا کرے گا کیونکہ شرافت انسانی اور پاکیزہ فطرت ایسی ہے جو ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔پس ایک ایسا دن جس میں ایک دوسرے مذہب کے بانیوں کی تعریف و توصیف کی جائے تمام ملک کے لئے اور تمام اقوام کے لئے مفید ہوگا۔اس کے بعد میں اس نظم کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو اس وقت پڑھی گئی ہے۔میں نے اس کے متعلق نظم کے لحاظ سے تو غور نہیں کیا مگر اس میں جن مایوس کن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ان کا میری طبیعت پر بہت بوجھ پڑا۔یا درکھو بے شک تم تھوڑے ہو اور ابتدائی حالت میں ہومگر تمہارا مقصد اور مدعا نہایت عظیم الشان ہے اور وہ یہ کہ دنیا کو نیکی وتقوی اور خدا تعالیٰ کے لئے فتح کرتا ہے۔تمہارے لئے مایوسی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ایک مومن تو اگر مر بھی جائے تو بھی اس کا م منقطع نہیں ہوتا۔تمہارا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ پہلے اپنے نفس کو اور پھر دنیا کو فتح کرو۔کام اس حالت میں مایوس ہونے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ایک شخص سر نیچے کئے ہوئے گزرا تو آپ نے اس کی ٹھوڑی پر مکا مارا کہ یہ مایوسی کی شکل ہے۔تم جو امتحان کے بعد یہاں سے جانے والے ہو یہ تمہارے لئے یہاں سے جدائی نہیں۔تم کہیں جاؤ ایک ایسے رشتہ میں وابستہ ہو جو تمہیں یہاں سے پیوستہ رکھے گا۔رونے کا مقام تو وہ ہوتا ہے جہاں جدائی ہو گر تم جدا نہیں ہو سکتے تمہیں اس صداقت نے شکار کیا ہے جس کا شکار بھاگ نہیں سکتا۔نہ اس دنیا میں نہ اس کے بعد۔کوئی بعد اسے دور نہیں کر سکتا۔تم نے دنیا میں بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔تم میں یہی روح اور یہی سیرت ہونی چاہئے کہ کوئی چیز تمہیں مرکز سے جدا نہیں کر سکتی۔ایک چیز ہے جس سے رنج ہو سکتا ہے اور وہ یہی کہ دین کی خدمت کے متعلق کو تا ہیاں ہوں اور خدا تعالیٰ کو اس طرح خوش نہ کیا جاسکے جس طرح کرنا چاہیئے یا دنیا کی خدمت اس طرح نہ ہو سکے جس طرح ہونی چاہئے۔اس پر اگر تمہیں رنج ہو، صدمہ ہو درد ہوتو یہ میچ ہوگا، جائز ہوگا اور مفید ہوگا۔مگر یہ درد کہ یہاں سے